جنوبی کوریا کا ایران جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ سیئول ایران کے خلاف جاری امریکا اسرائیل جنگ میں فوجی مداخلت کے لیے اپنی فوج یا عسکری اثاثے تعینات نہیں کرے گا۔

صدر لی جے میونگ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا جنگ میں مداخلت یا شمولیت نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اب تک جنگ میں عدم شمولیت اور عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہا ہے اور آئندہ بھی اسی مؤقف کو برقرار رکھے گا۔

یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں ممکنہ تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز خطے میں جاری جنگ کے دوران ایک اہم حساس مقام بن چکا ہے۔

صدر لی کے مطابق جنوبی کوریا اپنے تجارتی بحری جہازوں اور تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے صرف ضروری حد تک اقدامات کرے گا، تاہم ایسے کسی اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو فوجی مداخلت کا باعث بن سکتا ہو۔

انہوں نے اس مؤقف کو تین مرتبہ دہرایا کہ جنوبی کوریا ایران جنگ میں فوجی مداخلت کے لیے فوج تعینات نہیں کرے گا۔

امریکا اور شمالی کوریا سے متعلق مؤقف

جنوبی کوریا کے صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔ لی جے میونگ نے کہا کہ وہ بھی ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کی جائے۔

جنوبی کوریا شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ابتدائی رابطہ کاری کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ لی کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان ملاقات کا امکان مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے رواں سال دوبارہ ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا۔

امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا پر تنقید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک انٹرویو میں شکایت کی تھی کہ واشنگٹن کو دوسرے ممالک سے بہت کم مدد ملی ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا کو بھی بطور مثال پیش کیا تھا۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا نے جنوبی کوریا کی مدد کی، تاہم جب امریکا نے تعاون کی درخواست کی تو دیگر ممالک کی طرح جنوبی کوریا نے بھی انکار کیا۔

جنوبی کوریا اور امریکا نے گزشتہ ماہ اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کا محدود ایڈیشن منعقد کیا تھا۔ اس سے قبل ٹرمپ کی ہدایت پر ان مشقوں کا دائرہ کم کیا گیا تھا۔

امریکا جنوبی کوریا میں تقریباً 28 ہزار 500 فوجی تعینات کیے ہوئے ہے، جن کا مقصد جوہری صلاحیت رکھنے والے شمالی کوریا کے خلاف جنوبی کوریا کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

امریکا کے ساتھ سرمایہ کاری مذاکرات بھی جاری

جنوبی کوریا نے گزشتہ سال طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت امریکا میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی اتفاق کیا تھا۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے جانے والے محصولات کے شدید اثرات سے بچنے کے لیے کیا گیا تھا۔

صدر لی کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات انتہائی پیچیدہ اور مشکل رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بعض شرائط پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ شرائط جنوبی کوریا کے لیے قبول کرنا مشکل ہیں اور بات چیت اب بھی جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed