امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی رہنماؤں اور وفد کے ارکان کو ویزے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بھی امریکا کا ویزا دے دیا گیا ہے اور ان کا جنرل اسمبلی اجلاس سے بدھ کو خطاب شیڈول ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکا کا دورہ کرنے والی ایرانی شخصیات پر لگژری اشیا خریدنے کی پابندی ہوگی، جبکہ وہ کلبز کی رکنیت بھی حاصل نہیں کرسکیں گی۔
دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کو امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا ہوگا۔ جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے انہیں ویڈیو لنک پر خطاب کی اجازت دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت
وزیراعظم شہباز شریف بھی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کریں گے اور پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
شہباز شریف اپنے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور عالمی جنوب کو درپیش مسائل سے متعلق پاکستان کی ترجیحات اجاگر کریں گے۔
وزیراعظم عالمی برادری کی توجہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کی جانب بھی مبذول کرائیں گے۔
دورہ امریکا کے دوران وزیراعظم اعلیٰ سطح کی مختلف تقریبات میں شرکت کے علاوہ عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی امن، بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام سے متعلق پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا جائے گا۔
امریکا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف وطن واپسی کے سفر کے دوران دوبارہ لندن میں قیام کریں گے اور بعد ازاں پاکستان روانہ ہوں گے۔







