ریڈیو پاکستان حملہ کیس, عدالت نے پولیس رپورٹ مسترد کر دی

انسداد دہشت گردی کی پشاور کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اختجاج کے دوران 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے سے متعلق مقدمہ میں پولیس اور سپیشل پراسیکیوٹر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ نامکمل اور غیر حتمی قرار دیتے ہوئے مسترد کردی اور تفتیشی آفسر کو ہدایت کی ہے کہ فارنزک سائنس لیبارٹری لاہور اور نادرا سے موصولہ رپورٹس کی روشنی میں مکمل تفتیشی ریکارڈ اور حتمی رپورٹ 24 ستمبر کو عدالت میں پیش کی جائے۔عدالت میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے شبیر حسین گیگیانی ایڈووکیٹ، سپیشل پراسیکیوٹر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نعمان الحق کاکاخیل جبکہ تفتیشی آفسر ڈی ایس پی خوشحال خان عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کوبتایا کہ تفتیشی آفسر کی جانب سے صرف پی ایس ایل اے اور نادرا رپورٹس پیش کرنا کافی نہیں، بلکہ ان رپورٹس کے حصول کی بنیاد بننے والی مکمل تفتیش، شواہد اور متعلقہ ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ تفتیشی افسر کی 12 ستمبر 2026 کی رپورٹ محض رائے پر مبنی اور غیر حتمی ہے اور یہ ریڈیو پاکستان کی جانب سے دائر درخواست سے بھی مطابقت نہیں رکھتی، لہٰذا مذکورہ رپورٹ کو حتمی تفتیشی رپورٹ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ پی ایس ایل اے اور نادرا حکام سے موصول ہونے والی رپورٹس کی روشنی میں کی گئی تمام تفتیش، اس کے نتائج اور متعلقہ ریکارڈ کو مکمل کرتے ہوئے حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے مقدمے میں پولیس کی جانب سے بعض سیاسی و دیگر افراد کو کرائم ویڈیوز، فرانزک لیبارٹری رپورٹس اور نادرا ریکارڈ کی بنیاد پر نامزد کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ تاہم عدالت نے موجودہ رپورٹ کو حتمی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو تفتیش کے تمام مراحل اور اس کے حتمی نتائج عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور سماعت 24 ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed