مشرق وسطی میں جنگ کے باوجود تیل سستا، قیمتیں گر گئیں

مشرق وسطی سے تیل کی سپلائی میں بڑی رکاوٹ نہ آنے کی امید کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز تقریبا ایک فیصد کم ہوگئیں، تاہم خام تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعے کو کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.01 ڈالر یعنی ایک فیصد کمی کے بعد 103.77 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.03 ڈالر کمی کے بعد 100.88 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔دونوں عالمی بینچ مارک کی قیمتیں جمعرات کو بھی تقریبا ایک فیصد کم ہوئی تھیں۔ مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ یہ امید ہے کہ مشرق وسطی سے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستے دستیاب ہوسکتے ہیں، جس سے عالمی سپلائی پر دبائو کم رہ سکتا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب اور یمن کے ایران نواز حوثیوں کے درمیان سرحد پر تازہ حملوں نے خطے میں جنگ کا دائرہ مزید بڑھنے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں نے فی الحال ان حملوں کے باعث تیل کی سپلائی کو لاحق خطرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ مشرق وسطی میں جنگ کی صورتحال، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی اور عالمی منڈی تک تیل پہنچانے کے متبادل راستوں کی دستیابی سے متاثر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed