معظم بٹ کا پی ٹی آئی کو آئینی حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان معظم بٹ ایڈووکیٹ نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے متعلق عدالتی فیصلے کے تناظر میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی قیادت کو انتہائی محتاط اور قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے ایک بیان میں معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر آئینی مشینری کے فیل ہونے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے سیاسی نتائج سے گورنر خیبر پختونخوا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات کے تناظر میں پارٹی کے خلاف سخت اقدامات کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات کو ایسی سمت نہیں جانا چاہیے جہاں سیاسی کشیدگی مزید بڑھے یا پارٹی کے خلاف کوئی انتہائی اقدام کرنے کا جواز پیدا ہو۔معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ وقت احتجاج کو منظم، پرامن اور قانونی دائرہ کار میں چلانے کے لیے اہم ہے تاکہ پارٹی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے ساتھ آئینی حدود کی بھی پابندی کرے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے آئین میں بنیادی حقوق موجود ہیں، جن میں آرٹیکل 14 سے 18 تک مختلف بنیادی حقوق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تاہم ان حقوق کے استعمال کے ساتھ آئینی و قانونی پابندیوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے واضح گائیڈ لائنز اور جامع پالیسی جاری کی جائے تاکہ کارکنان اور رہنماں کو قانونی حدود سے آگاہی ہو اور احتجاج پرامن انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed