پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مشترکہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں جارحیت یا کسی ملک میں مداخلت کا کوئی عنصر شامل نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط سٹریٹیجک تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے اور اس کا مقصد علاقائی استحکام اور اجتماعی مزاحمت قائم کرنا ہے-ڈی جی آئی ایس پی آر نے چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات انتہائی سٹریٹیجک ہیں اور نیا دفاعی معاہدہ ان کی تکمیل کرتا ہے، اس میں مسابقت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور دیانت دار سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ پیچیدہ معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکے۔ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں بلکہ یہ خالصتاً دہشت گردی کا معاملہ ہے۔ بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ بھارت سے بات چیت برابری اور خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر ہوگی، اور اگر بھارت نے دوبارہ کوئی جارحیت کی تو اس کے نتائج توقع سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ افغانستان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے بارے میں فوج کا موقف وہی ہے جو سیاسی قیادت کا ہے، اور پاکستان کی اولین ترجیح یہی ہے کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔







