ایڈیشنل سیشن جج عدنان خان نے قتل اور اقدامِ قتل کے ایک پرانے مقدمے میں نامزد دونوں ملزمان کو عدالت نے بری کر دیا۔استغاثہ کے مطابق اس واقعے میں مدعی اسیر محمد کے بھائی خان محمد جاں بحق جبکہ مختار زخمی ہوئے تھے، اور یہ واقعہ پرانی خونی دشمن کا نتیجہ تھا۔ واقعہ 20 اگست 2020 کو پیش آیا تھا جس کے بعد تھانہ چارسدہ میں ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 324 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا گیا دوران ٹرائل ملزمان کی جانب سے شاہ حسین ناساپی ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور دلائل دیے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان رخسار اور منور پسران انور خان ساکنان رجڑ چارسدہ کو مقدمے سے بری کر دیا۔







