سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک حوثی ڈرون کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا۔ اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی، جبکہ اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔ دوسری جانب حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے سعودی عرب کے اس دعوے کو من گھڑت اور کھلا جھوٹ قرار دیتے ہوئے مکہ پر کسی بھی قسم کے ڈرون حملے کی تردید کی ہے۔اس واقعے پر عالمی سطح پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس کارروائی کو تمام اسلامی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی منافی اور دہشت گردی قرار دیا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ نے بھی سعودی عرب پر ہونے والے ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے کشیدگی میں کمی اور یمن میں معصوم شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ المکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کو نا قابلِ معافی اور گھناؤنا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور واضح کیا کہ پاکستان حرمین الشریفین کی سلامتی اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہمیشہ اپنے برادر ملک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔







