ایران کے ساتھ جاری شدید جنگی کشیدگی کے عالمی معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کی زد میں برطانیہ بھی آ گیا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی نرخوں میں یکایک اضافے کے باعث برطانیہ میں گزشتہ ایک ہی ہفتے کے دوران پیٹرول کی اوسط قیمت میں ۵ پنس فی لیٹر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
برطانوی موٹرنگ آرگنائزیشن ‘آر اے سی’ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ان لیڈڈ (بغیر سیسے والے) پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر ۱۶۷.۱۷ پنس فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت ۱۸۸.۶۳ پنس فی لیٹر درج کی گئی ہے۔ ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ ان حالات میں ایندھن کے نرخوں میں فوری کمی کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور رسد کی ممکنہ معطلی کے خوف سے برینٹ خام تیل کی عالمی قیمت ایک بار پھر ۱۰۰ ڈالر فی بیرل کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ خطے کی جنگ اور کشیدگی کا سلسلہ طویل ہوا تو انے والے دنوں میں برطانیہ میں پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہوں گی۔ اس صورتحال سے پہلے ہی شدید مہنگائی اور معاشی بوجھ تلے دبے برطانوی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔







