ایمپلائز یونین سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے صدر صاحبزادہ نسیم خان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی چیف سیکرٹری شہاب الدین اور ڈائریکٹر لیبر کی توجہ کم سے کم ماہانہ اجرت 45000کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن سرد خانے کی نذر ہے نوٹیفکیشن نہ ہونے پہ سرکاری دفاتر ملازمین کو ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں ،ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے بجٹ میںجولائی 2026 سے کم سے کم ماہانہ اجرت 45000 کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے لیکن تیسرا مہینہ شروع ہو چکا ہے اس اعلان پہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے حالانکہ ریگولر ملازمین جن کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے وہ تنخواہ اضافے کے ساتھ وصول کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سرکاری اور خود مختار اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو صرف ماہانہ40000 روپے ادائیگی کے علاوہ کسی قسم کا کوئی الائونس نہیں ملتا الٹا ڈیلی ویج ہونے کے ناطے ان کی نوکری ہر وقت خطرے کا شکار رہتی ہے ،موت کا پھندا ان کے گلے میں پڑا رہتا ہے وہ ہر وقت پریشان رہتے ہیں لہٰذا میری تمام مزدور تنظیموں سے بھی اپیل ہے کہ وہ ڈیلی ویج ملازمین کے لیے آواز اٹھائیں حکومت کے پاس وقت نہیں کہ وہ اپنے کہے کو عملی جامہ پہنائے ۔







