
پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ضیا ء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز)نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ اور سرحدی رابطوں کی طویل بندش اور مسلسل تعطل نے تاجروں، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹروں، کسٹمز ایجنٹس، مزدوروں اور دونوں ممالک کے لاکھوں عام شہریوں کو بے پناہ اور کئی صورتوں میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے چین کی ثالثی اور مثبت کردار کی کوششوں کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔چین دونوں ممالک کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات اور خطے میں امن، استحکام، تجارت اور رابطوں کے فروغ میں اپنی اسٹریٹجک دلچسپی کے باعث یہ تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔تاہم سرحدیں دوبارہ کھولنا صرف ابتدا ہے، مسئلے کا مکمل حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان انتہائی نچلی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اتنے بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد کاروباری برادری کا یہ سوال فطری ہے،کیا ضمانت ہے کہ اگلے کسی سیاسی یا سکیورٹی تنازع کی وجہ سے تجارت اور ٹرانزٹ دوبارہ بند نہیں کیے جائیں گے اور مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں ایک خصوصی شق شامل کی جانی چاہیے، جس میں واضح طور پر درج ہو”تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کو سیاسی دبا ئوکے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تنازعات کی بنیاد پر انہیں معطل نہیں کیا جائے گا۔”اس کے بجائے کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی تنازع کو ایک مستقل مشاورتی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے جبکہ باہمی طور پر طے شدہ سکیورٹی ضوابط کے تحت جائز تجارتی سرگرمیاں اور آمدورفت جاری رہیں۔ضیا ء الحق سرحدی جوکہ فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA)خیبرپختونخوا کے صدراکے علاوہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبر ایگزیکٹیوکمیٹی بھی ہیں نے مزید کہا کہ چین افغانستان اور پاکستان کے درمیان چین کی سرپرستی میں تجارتی و ٹرانزٹ ضمانتی طریقہ کارکے قیام میں مدد دے سکتا ہے، جس میں افغانستان، پاکستان اور چین نجی شعبے کے متعلقہ نمائندگان شامل ہوںجبکہ یہ طریقہ کار معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی، ہنگامی مشاورت میں سہولت کاری اور اختلافات کو طویل سرحدی بندش میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کا کردار کیوں اہم ہے، افغانستان اور پاکستان جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں، جبکہ افغانستان پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم گیٹ وے بھی ہے۔ اگر تجارتی راستے بار بار بند ہوتے رہے تو کاروباری ادارے بالآخر متبادل راستوں اور سپلائرز کی طرف منتقل ہوجائیں گے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کل سرحد اور تجارتی راستے بلاجواز بند نہ کیے جاسکیں۔ پڑوسی ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، یہ ایک فطری امر ہے لیکن تجارت کو سیاست کا شکار نہیں بننا چاہیے اور عام شہریوں، تاجروں اور مزدوروں کو سیاسی تنازعات کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔کاروباری برادری کو دوبارہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے پیش بینی کے قابل حالات، تسلسل، تحفظ اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کی ضرورت ہے۔چین کے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کو بار بار کے تصادم سے نکال کر ادارہ جاتی معاشی تعاون کی جانب لے جانے میں مدد کرسکتا ہے۔چین کی حمایت سے قائم ایک قابلِ اعتماد ضمانتی طریقہ کار تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کی بحالی کے لیے ضروری اعتماد فراہم کرسکتا ہے اور افغانستان، پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط اقتصادی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔جبکہ تجارت کو قوموں کے درمیان پل تعمیر کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار آج چین کا تعمیری کردار کل ایک زیادہ مستحکم، مربوط اور خوشحال خطے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔







