ایشیا ء پیسفک میڈیا فورم کامیزبان چین کا جدید ترین شہر

تحریر: امجد عزیز ملک

آج کل چین کے شہر شینزن کا خوب چرچا ہے اور اس کی وجہ یہاں ایشیاء پیسفک میڈیا فورم کا انعقاد ہے۔ دنیا بھر سے صحافی یہاں موجود ہیں جو شینزن کی ترقی کو دیکھ کر حیران و پریشان ہیں۔ زیادہ تر صحافی ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اس شہر کا نام بھی نہیں سنا تھا لیکن ہانگ کانگ سیبلٹ ٹرین کے ذریعہ پندرہ منٹ کی مسافت پر واقعہ اس شہر نے یہاں آنیوالے ہر شخص کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ چین کی ترقی سے متعلق تو سب ہی جانتے ہیں لیکن چالیس سال قبل مچھیروں کا مسکن یہ شہر دنیا کا جدید ترین شہر بن گیا ہے۔ ہماری گائیڈ ہمیں بتا رہی تھیں کہ دس برس قبل ایک مقام پر مٹی ہی مٹی تھی لیکن اب یہاں بلند و بالا عمارتیں ہیں، طویل سرنگیں ہیں، خوبصورت درختوں کا لامتناہی سلسلہ ہے، سمند ر کے کنار ے دو سو کلومیٹر سے زیادہ طویل بیچ ہے، الغرض شاید ہی کوئی ایسی سہولت ہو جو شینزن میں موجود نہ ہو۔ یہاں اکانومی کے حوالے سے شنید ہے کہ آنیوالے ماہ و سال میں یہ شہر دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک مضبوط معیشت بن کر ابھرے گا ۔چین کے عظیم الشان شہر شینزن میں قدم رکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی ایسے شہر میں داخل ہوگیا ہوں جہاں مستقبل آج ہی حقیقت بن چکا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، کشادہ اور صاف سڑکیں، جدید ٹیکنالوجی، برقی گاڑیاں، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، جدید صنعتیں، خوبصورت پارکس اور سمندر کے کنارے پھیلا ہوا ایک متحرک شہرشینزن محض ایک شہر نہیں بلکہ ترقی، جدت، محنت اور خوابوں کی ایک زندہ داستان ہے۔میرا بھی شینزن کا یہ سفر ایشیاء پیسفک میڈیا فورم کے حوالے سے ہوا، جہاں 42 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد میڈیا نمائندوں، دانشوروں، ماہرین، سرکاری اداروں، جامعات، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ فورم میں اس بات پر تفصیلی گفتگو ہوئی کہ میڈیا ایشیاء پیسفک خطے میں باہمی خوشحالی پر مبنی مستقبل کی تعمیر میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔یہ میرے لئے صرف ایک میڈیا کانفرنس نہیں تھی بلکہ مختلف ملکوں کے صحافیوں اور میڈیا رہنماؤں سے ملاقات، خیالات کے تبادلے اور چین کو قریب سے دیکھنے کا ایک منفرد موقع بھی تھا۔

شینز ن چین کی جدید ترقی کا آئینہ
شینزن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ماضی اور مستقبل ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی اور دنیا کی معروف کمپنیوں کی فیکٹریاں ہیںاوردوسری طرف عام شہری کی زندگی میں سکون، نظم و ضبط اور سہولت نمایاں ہے۔ہم نے شینزن اور گوانگ ڈونگ کے مختلف صنعتی و تجارتی مراکز کا دورہ کیا۔

بی وائے ڈی میں جدید برقی گاڑیوں کی تیاری اور ٹیکنالوجی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ چین نے محض مصنوعات بنانا نہیں سیکھا بلکہ مستقبل کی صنعتوں کو تشکیل دینے کی صلاحیت بھی پیدا کرلی ہے۔ جدید فیکٹریوں میں خودکار نظام، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور انسانی مہارت ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے دکھائی دئیے۔DuRUCCI سمیت مختلف صنعتی اداروں کے دوروں نے بھی یہ احساس مضبوط کیا کہ چین کی اقتصادی طاقت کے پیچھے صرف بڑی عمارتیں نہیں بلکہ تحقیق، معیار، تربیت، محنت اور مسلسل جدت کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔شینزن کو چین کا شہرِ جدت کہنا بے جا نہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شہر میں ہائی ٹیک اداروں کی تعداد 26 ہزار سے زیادہ ہے اور تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری بھی غیر معمولی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

 

نومبر میں دنیا کی نظریں پھر شینزن پر ہونگی
شینزن کی اہمیت آنیوالے نومبر میں مزید بڑھنے والی ہے۔ 18 اور 19 نومبر 2026 ء کو ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن کے 33ویں اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس شینزن میں ہوگا۔ اس کے ساتھ ایپل سمٹ اور وزارتی اجلاس بھی ہونگے۔جس کیلئے ”ایشیاء پیسفک برادری کی تعمیر، مشترکہ خوشحالی کیلئے” کا مرکزی موضوع مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تین بنیادی ترجیحات کھلا پن، جدت اور تعاون ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ نومبر میں شینزن صرف چین کا شہر نہیں رہے گا بلکہ ایشیاء پیسفک کے بڑے رہنمائوں، کاروباری شخصیات، ماہرین اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔

چین کے مطابق 2026 کے APEC China Year میں تقریباً 300سرگرمیوں اور اجلاسوں کا انعقاد مختلف چینی شہروں میں کیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی رہنمائوں کا اجلاس شینزن میں ہوگا۔یہ میرے لئے خاص طور پر دلچسپ تجربہ تھا کہ جس شہر میں میں نے ستمبر میں ایشیاء پیسفک میڈیا فورم کے دوران مستقبل کی ایک جھلک دیکھی، وہی شہر چند ماہ بعد پورے ایشیا پیسفک کے سیاسی، اقتصادی اور کاروباری رہنماں کی میزبانی کرے گا۔

 

شینزن کے لوگ شہر کی اصل خوبصورتی
شینزن کی اصل خوبصورتی صرف اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی اور صنعت نہیں۔اس شہر کے لوگ ہیں۔مختلف مواقع پر مقامی لوگوں سے ملاقات ہوئی تو ان کی شائستگی، مسکراہٹ، مہمان نوازی اور غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ محبت نے دل جیت لیا۔ زبان مختلف تھی، ثقافت مختلف تھی، لیکن مسکراہٹ ایک ہی زبان بول رہی تھی۔چینی معاشرے میں اجتماعی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ مہمان کے احترام کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔

شینزن کے شہریوں میں مستقبل کی طرف دیکھنے کا اعتماد بھی ہے اور اپنی ثقافت سے جڑے رہنے کا احساس بھی۔

 

ایک ایسا شہر جہاں لوگ کتابوں سے محبت کرتے ہیں
شینزن کے سفر کا شاید سب سے خوبصورت اور حیران کن پہلو اس کا کتابوں سے تعلق ہے۔یہ شہر صرف ٹیکنالوجی اور صنعت کے حوالے سے مشہور نہیں بلکہ اسے کتابوں کے مطالعہ کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔یہاں کتاب محض لائبریری کی الماری میں رکھی ہوئی چیز نہیں بلکہ شہری زندگی کا حصہ ہے۔ پارکوں، کمیونٹی مراکز، شاپنگ ایریاز اور عوامی مقامات پر پڑھنے کیلئے جگہیں نظر آتی ہیں۔شینزن کے بارے میں سرکاری رپورٹ کے مطابق 2025 ء کے اختتام تک شہر میں 1227لائبریری سروس پوائنٹس قائم ہوچکے تھے، جن میں 918 عوامی کتب خانے اور 309 خودکار لائبریریاں شامل ہیں۔ ان نظاموں میں تقریبا 6 کروڑ 82 لاکھ کتابیں اور دیگر دستاویزات موجود تھیں، جبکہ رجسٹرڈ قارئین کی تعداد تقریبا 64 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی سال لائبریریوں میں آنیوالے قارئین کے دوروں کی تعداد 5 کروڑ 43 لاکھ سے زیادہ رہی۔

یہ اعدادوشمار صرف اعداد نہیں بلکہ ایک معاشرتی روئیے کی تصویر ہیں۔یہاں لوگ کتاب پڑھتے ہیں، کتاب تلاش کرتے ہیں، کتاب ادھار لیتے ہیں اور پھر واپس کرتے ہیں۔ شینزن میں مطالعے کو شہری زندگی کا حصہ بنانے کیلئے کئی سرگرمیاں بھی طویل عرصے سے جاری ہیں۔اب تو روبوٹ بھی آپ کو آپ کی پسند کی کتاب تلاش کر کے حوالے کر دے گا۔2025 کے اعدادوشمار کے مطابق شینزن کے رہائشیوں کی مجموعی شرحِ مطالعہ 94.3 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ شہر میں 58 لاکھ سے زیادہ فعال لائبریری کارڈز موجود تھے۔یہی وجہ ہے کہ شینزن کو صرف ٹیکنالوجی کا شہر کہنا اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یہ ٹیکنالوجی اور کتاب، صنعت اور ثقافت، رفتار اور شعور کا شہر ہے۔

شینزن سے پاکستان کیلئے سبق
شینزن کو دیکھتے ہوئے بار بار پاکستان کا خیال آتا ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، تخلیقی صلاحیت اور بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، صنعت اور مطالعے کو اپنی قومی ترقی کا بنیادی حصہ بنائیں۔شینزن ہمیں بتاتا ہے کہ صرف بڑی عمارتیں کسی شہر کو عظیم نہیں بناتیں۔

عظیم شہر وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو بہتر زندگی، نوجوان کو بہتر مستقبل، صنعت کو تحقیق، کاروبار کو مواقع اور معاشرے کو کتاب ملے۔شینزن کی ترقی کے پیچھے مجھے تین الفاظ بہت نمایاں نظر آئے جو محنت، جدت اور علم ہیںاور شاید یہی تین الفاظ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ متعین کرسکتے ہیں۔

میڈیا اور مشترکہ خوشحالی
ایشیا پیسفک میڈیا فورم میں ایک بات بار بار سامنے آئی کہ میڈیا صرف خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا پل بھی بن سکتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون اسی سوچ کا حصہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے لیکن آج کے دور میں اس دوستی کو نئی نسل، جدید میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ثقافت، تعلیم اور کاروباری روابط کے ذریعے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔شینزن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے صحافیوں کو دیکھ کر یہ احساس بھی ہوا کہ ایشیا ء پیسفک کا مستقبل صرف حکومتوں کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوام، میڈیا، نوجوانوں، کاروباری اداروں، جامعات اور ثقافتی روابط سے بھی تشکیل پائے گا۔

شینزن کی ایک یاد
شینزن سے واپسی پر میرے ذہن میں اس شہر کی ایک ہی تصویر نہیں بلکہ کئی تصویریں ہیں،ایک طرف بجلی سے چلنے والی جدید گاڑیاں ہیں، دوسری طرف کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا ہوا نوجوان۔ایک طرف بلند و بالا عمارتیں ہیں، دوسری طرف خاموشی سے مطالعہ کرتی ہوئی ایک فیملی۔ایک طرف روبوٹ اور مصنوعی ذہانت ہے، دوسری طرف انسانی مسکراہٹ’ایک طرف دنیا کی جدید ترین صنعتیں ہیں، دوسری طرف مہمان کو خوش آمدید کہتا ہوا ایک عام چینی شہری۔شاید یہی شینزن کا اصل حسن ہے۔یہ شہر مستقبل کی طرف تیزی سے دوڑ رہا ہے، مگر اس نے کتاب کو پیچھے نہیں چھوڑااور یہی وہ سبق ہے جو شینزن دنیا کو دے سکتا ہے کہ ترقی صرف مشینوں سے نہیں ہوتی؛ ترقی اس وقت پائیدار بنتی ہے جب ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں علم کی کتاب بھی ہو۔شینزن کو دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ اگر کسی شہر میں صنعت کے ساتھ علم، ٹیکنالوجی کے ساتھ انسان، ترقی کے ساتھ ثقافت اور رفتار کے ساتھ کتاب موجود ہو تو وہ شہر صرف معاشی طاقت نہیں بنتاوہ آنیوالے زمانے کی سمت متعین کرتا ہے۔شینزن واقعی ایک ایسا شہر ہے جہاں مستقبل بھی مسکراتا ہے اور کتابیں بھی بولتی ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed