امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ بہت جلد ایران کی پک ایکس مائونٹین( کوہِ کلنگ) کو نشانہ بنا سکتا ہے،ایران جنگ بڑی چیز نہیں، یہ چھوٹے آلوئوں جیسی ہے۔امریکی صدر نے وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے اس مقام پر جوہری سرگرمیاں جاری رہیں تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا بہت جلد ایران کے کوہ کلنگ گزلا کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکا اس مقام کو بہت جلد نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ کارروائی کے وقت یا طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔کوہ کلنگ گزلا ایران کی نتنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے۔ کوہ کلنگ گزلا میں 2 انتہائی محفوظ سرنگوں کے کمپلیکس ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی وہ اہمیت نہیں رہی جو تھی، آبنائے ہرمز کے بہت سے متبادل بنا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران بھی جان لے گا کہ آبنائے ہرمز پہلے جتنی اہم نہیں رہی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام سے پائپ لائن اور سڑک کے رستے بنے تو ہرمز کی اہمیت کم ہو جائے گی۔بہت سے لوگ اسے جنگ کہتے ہیں میں فوجی تنازع کہتاہوں، ایران جنگ بڑی چیز نہیں یہ چھوٹے آلوئوں جیسی ہے۔امریکی صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈکشنر روس اور یوکرین جائیں گے اور جنگ کے خاتمے کی تجویز پیش کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد پہلے ماسکو میں روسی قیادت سے ملاقات کرے گا، جس کے بعد کیف جانے کا امکان ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی وٹکوف اور کشنر کے اتوار کو کیف پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں امریکی نمائندے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ٹھوس تجویز لے کر جا رہے ہیں۔ تاہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے حوالے سے اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں۔







