پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما شیرافضل مروت نے بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمی خان کے ساتھ کسی بھی ذاتی یا مالی تنازع کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود علیمہ خان کے ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد کے احتجاج میں شریک رہے ہیں، لیکن بعد ازاں ان کے خلاف مسلسل چار مرتبہ بیانات سامنے آئے، جس پر انہوں نے اپنا مقف واضح کر دیا۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا عمران خان کی بہنوں علیمہ خان یا عظمی خان کے ساتھ کوئی ذاتی یا مالی تنازع نہیں، انہوں نے دونوں بہنوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جب صحافی ان سے ان کے بارے میں سوالات کرتے ہیں اور وہ جواب دیتی ہیں تو معاملات مزید عوامی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں اور لوگ اس صورتحال کو دیکھتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ انہوں نے مشکل وقت میں پورے ملک میں پارٹی کیلئے مہم چلائی، عوام کو حوصلہ دیا اور ایسے کام کیے، جو اس وقت کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ان کے بقول، حالات تبدیل ہونے کے بعد وہ لوگ بھی سامنے آگئے جو پہلے چھپے ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف کردارکشی شروع کردی گئی۔شیر افضل مروت نے دعوی کیا کہ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ ان کا سیاسی گراف بعض لوگوں سے زیادہ اوپر جا رہا تھا، اگر مخالفین کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہے تو انہیں مبارک ہو۔شیر افضل مروت نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید وقت گزارنے کے بجائے انہیں اٹک، میانوالی، بھکر، چکوال، جہلم اور تلہ گنگ جیسے علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع میں بڑی آبادی موجود ہے اور وہاں سے مارچ کیلئے مثر عوامی حمایت حاصل کی جاسکتی تھی۔شیر افضل مروت کے مطابق مارچ کی تیاری کے دوران ان علاقوں میں عوامی رابطہ اور حمایت حاصل کرنا سیاسی طور پر زیادہ مثر ثابت ہوسکتا تھا۔







