شانگلہ سمیت بالائی خیبر پختونخوا میں چوتھے روز بھی بارش، پہاڑوں پر ژالہ باری

شانگلہ سمیت خیبر پختونخوا کے بالائی پہاڑی علاقوں اور میدانی خطوں میں چوتھے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بالائی علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعد مختلف مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی، جس کے باعث موسم میں نمایاں تبدیلی آگئی اور بالائی علاقوں میں سردی شروع ہوگئی جبکہ موسم انتہائی خوشگوار ہوگیا۔شدید بارش اور ژالہ باری کے بعد بالائی پہاڑی علاقوں میں سردی میں اضافے کے پیش نظر چرواہوں نے اپنے مال مویشیوں کو سرد علاقوں سے گرم میدانی علاقوں کی جانب منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ موسم کی تبدیلی اور سردی کی آمد کے ساتھ ہر سال بالائی علاقوں سے مال مویشیوں کی موسمی نقل مکانی شروع ہوجاتی ہے، تاہم رواں سال بارشوں اور سردی میں اضافے کے باعث اس عمل میں تیزی آگئی ہے۔بالائی پہاڑوں اور چراگاہوں میں رہنے والے چرواہے اپنے مویشیوں کو محفوظ مقامات اور نسبتا گرم علاقوں کی طرف منتقل کررہے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بارشوں کے موجودہ سلسلے کے آئندہ دو روز تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جس کے باعث بالائی علاقوں میں مزید بارش، تیز ہواں اور سردی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں معمولات زندگی بھی متاثر ہورہے ہیں جبکہ نشیبی اور دریائی علاقوں میں مقامی ندی نالوں اور دریاں میں پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ادھر گزشتہ ہفتے بشام تا الپوری شاہراہ پر شدید بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ تاحال مکمل طور پر نہیں ہٹایا جاسکا، جس کے باعث شاہراہ پر آمدورفت میں مشکلات برقرار ہیں۔ شہریوں اور مسافروں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ مقامات سے ملبہ فوری طور پر ہٹایا جائے اور شاہراہ کو محفوظ بنایا جائے تاکہ بارشوں کے دوران کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جاسکے۔الپوری اور گردونواح میں بارش شروع ہوتے ہی بجلی کا نظام ایک مرتبہ پھر شدید متاثر ہوگیا۔ متعدد فیڈرز بند کردیئے گئے، جس کے باعث گزشتہ رات وادی کے بیشتر علاقے مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ بجلی کی طویل بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ گھریلو صارفین کے علاوہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔مقامی آبادی نے کہاکہ بارش شروع ہوتے ہی بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔ عوام نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بارش اور خراب موسم کے دوران بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ فیڈرز کی بحالی کا عمل تیز کیا جائے۔دریں اثنا موسلادھار بارش کے باعث شانگلہ کے مقامی ندی نالوں اور دریاں میں پانی کی سطح بھی بلند ہوگئی، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں تیز بارش کے باعث ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے امکانات کے پیش نظر مقامی آبادی کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں سے ایک طرف موسم خوشگوار اور قدرتی ماحول نکھر گیا ہے جبکہ دوسری جانب لینڈ سلائیڈنگ، بجلی کی بندش اور شاہرائوں پر آمدورفت میں مشکلات نے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ عوام نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور بجلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بارشوں کے دوران سڑکوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed