پشاور(عدنان بشیر سے )
ڈی آر سی آغا میر جانی شاہ نے شہریوں کے باہمی تنازعات اور مختلف نوعیت کی شکایات کے فوری اور مثر حل میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک ماہ کے دوران تقریبا 90 فیصد کیسز نمٹا دیے۔ SP سٹی شاہد عدنان خلیل کی نگرانی میں ڈی آر سی کی جانب سے شہریوں کے مسائل کے حل اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے مثر اقدامات جاری ہیں۔سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے مارک کیے گئے کیسز پر بھی ڈی آر سی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فریقین کو طلب کیا، ان کا مقف سنا اور معاملات کو میرٹ، باہمی رضامندی اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ڈی آر سی آغا میر جانی شاہ کی کارکردگی میں سیکرٹری اعظم مہمند اور دیگر ممبران کا اہم کردار رہا۔ ڈی آر سی کے ممبران امیر نواز ایڈووکیٹ، پرنسپل شبی گل حسین، احمد مدنی، ارباب شہاب، قاری امین اور خانزادہ نے شہریوں کے مسائل سننے، فریقین کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ڈی آر سی آغا میر جانی شاہ میں بڑی تعداد میں شکایات اور تنازعات پیش کیے گئے، جن میں گھریلو، خاندانی، جائیداد، لین دین اور دیگر باہمی نوعیت کے معاملات شامل تھے۔ ڈی آر سی ممبران نے تمام فریقین کو یکساں موقع فراہم کرتے ہوئے ان کا مقف سنا اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔خصوصا سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے مارک کیے گئے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر سنا گیا۔ ڈی آر سی ممبران نے کیسز کی مکمل سماعت کے بعد فریقین کے درمیان اختلافات ختم کرانے اور قابل قبول حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں متعدد معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ گئے۔ڈی آر سی کا بنیادی مقصد شہریوں کو معمولی نوعیت کے تنازعات کے حل کے لیے طویل قانونی مراحل سے بچاتے ہوئے فوری اور آسان انصاف کی فراہمی میں معاونت کرنا ہے۔ آغا میر جانی شاہ ڈی آر سی میں فریقین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر بلا کر ان کے مسائل سنے جاتے ہیں اور باہمی رضامندی سے قابل عمل حل تلاش کیا جاتا ہے۔SP سٹی شاہد عدنان خلیل کی نگرانی میں ڈی آر سی کی جانب سے شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالے اور پولیس و عوام کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔سیکرٹری اعظم مہمند کی سربراہی میں ڈی آر سی ممبران کی جانب سے کیسز کی باقاعدہ سماعت اور فریقین سے براہ راست بات چیت کے باعث شہریوں کا اس نظام پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ڈی آر سی ممبران کا کہنا ہے کہ تنازعات کو گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا معاشرے میں امن و امان اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔صرف ایک ماہ کے دوران تقریبا 90 فیصد کیسز کا نمٹایا جانا ڈی آر سی آغا میر جانی شاہ کی مثر کارکردگی کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کی جانب سے بھی ڈی آر سی کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے فورمز کے ذریعے انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے بروقت رہنمائی اور ریلیف مل رہا ہے۔پولیس اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے، شہریوں کی شکایات سننے اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں ڈی آر سی آغا میر جانی شاہ ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔SP سٹی شاہد عدنان خلیل کی نگرانی اور سیکرٹری اعظم مہمند سمیت ڈی آر سی ممبران امیر نواز ایڈووکیٹ، پرنسپل شبی گل حسین، احمد مدنی، ارباب شہاب، قاری امین اور خانزادہ کی مشترکہ کاوشوں سے ایک ماہ کے دوران 90 فیصد کیسز کا حل شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اگر چاہیں تو میں اس خبر کے 3 زبردست اخباری ٹائٹل اور 5 ٹکرز بھی بنا دوں۔







