پشاور ہائیکورٹ نے نجی قرض پر سود سے متعلق ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بنچ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار تاج ولی اور مدعی عارف خان الگ الگ ریسٹورنٹ کا کاروبار چلاتے ہیں، جن کے مابین 20 فروری 2025 کو لین دین اور سکیورٹی کی رقم سے متعلق معاہدہ طے پایا تھا۔ مدعی نے ایڈیشنل سیشن جج کے پاس شکایت درج کروائی تھی کہ درخواست گزار مبینہ طور پر اضافی رقم اور سود کا مطالبہ کر رہا ہے، جس پر ماتحت عدالت نے خیبر پختونخوا پرائیویٹ لونز ایکٹ 2016 کے سیکشن 6 کے تحت ایس ایچ او کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سود کا مطالبہ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت جرم بنتا ہے، اور آئینی دائرہ اختیار میں عدالت تفتیشی افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی جبکہ درخواست گزار کے پاس دیگر متبادل قانونی راستے بھی موجود ہیں۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔







