متحدہ اپوزیشن نے منظم و موثر کر دارادا کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا، جس میں جمعیت علمائے اسلام کی شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا۔اجلاس کے اعلامیے کے مطابق پارلیمنٹ کے اندر منظم اور موثر مشترکہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ یہ طے کیا گیا کہ قومی اہمیت کے معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کیا جائے گا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس میں طے کیا گیا کہ آئین سے متصادم قانون سازی کے خاتمے کے لیے آئینی اور پارلیمانی ذرائع استعمال کیے جائیں گے جبکہ صوبائی حقوق اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے معاملات پارلیمنٹ میں اٹھائے جائیں گے۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے قرارداد لانے کی تجویز بھی دی گئی۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی جدوجہد عوامی اور جمہوری سطح پر بھی جاری رہے گی۔اجلاس میں غیر قانونی قانون سازی واپس لینے، بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سیاسی کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرنے اور ملک میں امن کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس میں افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بحال کرنے، سرحدی تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی راستے فعال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں متحدہ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کے آئینی، مالی اور انتظامی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ نئے صوبوں کے قیام کا وقت مناسب نہیں۔اجلاس کے دوران قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے جبکہ اپوزیشن ارکان کو ایوان میں اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا حق دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔







