اکادمی ادبیات کے زیراہتمام جشنِ آزادی کے حوالے سے کثیراللسانی مشاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان، پشاور کے زیرِ اہتمام 24 اگست 2026 بروز سوموار سہ پہر چار بجے جشنِ آزادیِ پاکستان کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب اور کثیراللسانی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت محترمہ بشری فرخ نے کی، جبکہ ڈاکٹر فخرالاسلام مہمانِ خصوصی تھے۔ ثمینہ قادر، ڈاکٹر اسحاق وردگ، ڈاکٹر سید زبیر شاہ اور فرید اللہ شاہ حساس نے مہمانانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔

نظامت کے فرائض ڈاکٹر قدرت اللہ خٹک نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز ڈاکٹر قدرت اللہ خٹک کی شگفتہ اور پراثر نظامت سے ہوا۔ انہوں نے معزز مہمانوں، شعرا اور سامعین کو خوش آمدید کہا۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت پروفیسر سید حامد نے حاصل کی، جبکہ تابندہ فرخ نے نعتِ رسولِ مقبول ۖ پیش کی۔ابتدائی کلمات میں اکادمی ادبیات پاکستان، پشاور کے اعزازی ڈائریکٹر ڈاکٹر گلزار جلال نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور جشنِ آزادی کی اہمیت کے ساتھ ادب اور اہلِ قلم کی قومی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔بعد ازاں کثیراللسانی مشاعرے کا آغاز ہوا، جس میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانوں کے شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے وطن سے محبت، قومی یکجہتی اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا۔

آصف بسمل نے اردو کا ملی نغمہ ترنم سے پیش کیا۔ ڈاکٹر خادم ابراہیم نے ہندکو نظم، انجینئر عتیق الرحمن نے اردو کلام، جبکہ ڈاکٹر نور حکیم جیلانی نے پشتو اور اردو میں اپنا کلام سنایا۔ قاسم محمود خٹک نے اردو نظم، ڈاکٹر روشن کلیم نے پشتو نظم اور بشارت امرت نے ملی نغمہ ترنم سے پیش کیا۔مشاعرے کے اگلے مرحلے میں ثمینہ قادر نے پشتو اور اردو میں نظم پیش کی۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ نے اردو نظم اور ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے اردو کلام سنایا۔ فرید اللہ شاہ حساس نے اپنے اظہارِ خیال میں آزادی کی قدر و قیمت اور موجودہ دور میں اہلِ قلم کی قومی و سماجی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔مہمان خصوصی ڈاکٹر فخرالاسلام نے اپنے خطاب میں آزادی کی اہمیت، قومی وحدت اور ادب کے ذریعے حب الوطنی کے فروغ پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے منظوم خراجِ عقیدت بھی پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔اختتامی کلمات میں صدرِ محفل محترمہ بشری فرخ نے وطن سے محبت کے جذبات کا اظہار کیا اور اپنا منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر راف خرم کی جانب سے جشنِ آزادی کی مناسبت سے کیک کا بھی اہتمام کیا گیا، جسے صدرِ محفل، مہمانِ خصوصی، مہمانانِ اعزاز، شعرا اور دیگر شرکا نے مل کر کاٹا۔آخر میں شرکا نے گروپ فوٹو بنوائی۔ یوں یہ پروقار تقریب اور کثیراللسانی مشاعرہ وطن سے محبت، قومی یکجہتی اور زبان و ادب کے باہمی رشتے کو اجاگر کرتے ہوئے ایک خوشگوار اور یادگار ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed