امریکہ نے شام کو ریاستی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ یہ شام پر کئی دہائیوں پرانی پابندی تھی جس کے نتیجے میں اس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے النصرہ فرنٹ جسے بعد میں حیات تحریر الشام کے نام سے جانا گیا، کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس کے نتیجے میں متعلقہ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔دسمبر 2024 میں حیات تحریر الشام کی قیادت میں باغیوں نے طویل عرصے تک شام پر حکمرانی کرنے والے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد تنظیم کے سربراہ احمد الشرع صدر بن گئے۔ شام اب 13 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد تعمیرِ نو کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔امریکی وزیر خزانہ سکوٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ آج کا اقدام شام میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد دے گا جس سے سیاسی اور معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ یہ اقدامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کے وعدے کے مطابق کیے گئے ہیں۔تاہم محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ شام پر پابندیوں میں نرمی کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف امریکی موقف تبدیل ہو گیا ہے۔ محکمے نے کہا کہ وہ شام میں غیرقانونی عناصر کے خلاف کارروائی اور عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ آج شام ایک سیاہ داغ سے نجات حاصل کر رہا ہے اور اپنے ماضی کے ایک تکلیف دہ باب کو ختم کر رہا ہے تاکہ ترقی، تعمیرِ نو اور دوبارہ تعمیر کے سفر کا آغاز کیا جا سکے۔شام کے اعلی حکام نے بھی واشنگٹن کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے ملک کے لیے ایک بڑا موقع قرار دیا۔شامی وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے امریکہ کے اس فیصلے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نئی شامی ریاست کے عالمی امن اور سلامتی کے لیے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔







