الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مراد سعید کی نااہلی کے نتیجے میں سینیٹ کی نشست خالی قرار دے کر جاری کیا گیا ضمنی انتخاب کا اعلامیہ واپس لے لیا۔الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا تھا اور نہ ہی انہوں نے آئینی طور پر رکنِ پارلیمنٹ کا عہدہ سنبھالا تھا، اس لیے ان کی نااہلی کے نتیجے میں سینیٹ کی نشست قانونی طور پر خالی نہیں ہوئی۔تحریری فیصلے میں الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 219(ب) اور 224(5) کو الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 127 کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے ضمنی انتخاب اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کسی رکنِ پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی نشست موت، استعفے یا آئین کے آرٹیکلز 63 اور 64 کے تحت نااہلی کے باعث قانونی طور پر خالی ہو۔الیکشن کمیشن کے مطابق مراد سعید نے ابھی تک رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت حاصل نہیں کی تھی، لہذا ان کی نشست پر کوئی قانونی خلا پیدا نہیں ہوا اور ضمنی انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی جلال خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے پہلے جاری کیا گیا انتخابی شیڈول واپس لے لیا۔درخواست گزار جلال خان کی جانب سے بیرسٹر محمد یاسین رضا نے الیکشن کمیشن کے سامنے دلائل پیش کیے۔فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے مراد سعید کی سزا یا نااہلی کے باوجود یہ قرار دیا کہ چونکہ انہوں نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا تھا، اس لیے ان کے حوالے سے سینیٹ کی نشست کو قانونی طور پر خالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔الیکشن کمیشن کے چیئرمین سکندر سلطان راجہ سمیت کمیشن کے ارکان نے تحریری حکم نامے پر دستخط کئے۔







