کے پی اسمبلی’ بچوں کیساتھ جنسی زیادتی’ تشدد ‘ اغواء اور قتل کیخلاف قرار داد منظور

خیبرپختونخوا اسمبلی نے کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد، اغوا اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کیخلاف متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے موجودہ قوانین کو مزید موثر بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔قرارداد کے موقع پر اپوزیشن ارکان نے ہری پور میں کمسن آیت نور کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے پر لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لیے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔حکومتی رکن قاسم علی شاہ نے متفقہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی، جنسی تشدد، اغوا اور بعدازاں قتل کے واقعات انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے پیش نظر مثر قانون سازی کے ساتھ موجودہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق قوانین کو مزید مثر بنایا جائے، پولیس کے تفتیشی نظام، فرانزک اور ڈی این اے سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور ایسے مقدمات کی شفاف اور فوری تفتیش یقینی بنائی جائے۔ایوان نے مطالبہ کیا کہ بچوں سے متعلق جنسی جرائم کے مقدمات کے لیے تیز رفتار عدالتی نظام وضع کیا جائے، فریقین کے درمیان راضی نامے کی گنجائش ختم کی جائے اور مقدمات کو مثر انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔قرارداد میں متاثرہ بچوں کے لواحقین کو قانونی، نفسیاتی اور سماجی معاونت فراہم کرنے جبکہ مجرموں کو بلاامتیاز اور مثر انداز میں سزا دینے کے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ مجرموں کو بروقت سزا نہ ملنا ایسے سنگین جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے، اس لیے بچوں کے تحفظ کے لیے ریاستی اداروں کو مثر اقدامات کرنا ہوں گے ‘خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہری پور کی 5 سالہ بچی آیت نور کے قتل کے خلاف اپوزیشن اراکین نے خاموش احتجاج کیا۔اپوزیشن اراکین نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اور آیت نور کے قتل کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ آیت نور کے قتل کے خلاف آج ہری پور میں یومِ سیاہ منایا جارہا ہے، جس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے وہ بھی سیاہ پٹیاں باندھ کر اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا کہ معصوم بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed