جمعیت علمائے اسلام سعودی عرب کے مرکزی رہنما ، کوآرڈنیٹر بین الاقوامی تعلقات عامہ خیبر پختونخوا اور جنرل سیکرٹری پاک سعودی بزنس کمیونٹی انجینئر حاجی سجاد خان نے کہا ہے کہ نبی کریم ۖ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی میں عملی نمونہ بناکر ہی ہم کامیاب انسان بن سکتے ہیں کیونکہ حضورۖ نے عملی طور پر قول وفعل میں مطابقت کا مظاہرہ کرکے پوری دنیا کو عمل کی راہ دکھائی ہے ، لہذا رسول ۖ کی تعلیمات اور انہی کو رہنما مان کر ہم آج بھی عالمی طور پر اپنا کھویا ہوا وقار اور احترام حاصل کرسکتے ہیں ۔ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت النبی ۖ کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الحاج سجاد خان نے مزید کہا کہ عید میلاد النبی ۖ تجدید عہد کا دن ہے حضور ۖ کی تعلیمات کو اپناکر ہی ہم ترقی کے منازل طے کرکے عروج پر پہنچ سکتے ہیں اور یہ وقت کی پکار بھی ہے ۔ کیونکہ جب انسان عمل سے نا آشنا تھا ہر طرف نفرت جھگڑے اور طاقت آزمائی عام تھی تو اس وقت اللہ تعالی نے انسانیت کی رہنمائی کیلئے رسول ۖ کو مبعوث فرمایا انہوں نے 23 سال تک انتھک محنت کی ہر قسم کے حالات کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کرکے عالم عرب کے حالات کو یکسر تبدیل کر دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اج کے یہ لمحات بہت قیمتی لمحات ہیں جس میں ہم سب انسانیت کی سب سے اعلی شخصیت جناب سیدنا رسول کریم ۖ کی سیرت مبارک پر گفتگو کرنے کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں ، رسول کریم ۖ کی انسانیت کے اوپر بہت احسانات ہیں اور ان احسانات کا ذکر کرکے ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اس ذات باری تعالی نے ہمیں اس قسم کا عظیم ہادی و رہنما دیا ہے . جنہوں نے اللہ کی وحدانیت کے قیام کیلئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بہت سا کام کیا ، مظلوم کی دادرسی کے مدعی بن گئے ، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے علمبردار بن گئے اسی کو حقیقی کامیابی قرار دیا ، انسانیت زندگی کے ایک نئے تصور سے آشنا ہو گئی یہ تصورات ہمیں کسی اور سے نہیں بلکہ رسول اللہ ۖ سے ملے ہیں یہ ہمارا اثاثہ ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے . انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنے اوپر نظر ڈالنی چاہئیے کہ یہ دین یہ اسلام یہ اعلی تعلیمات جن کے آج ہم وارث اور مدعی ہیں یوں ہی ہم تک نہیں آئے بلکہ عظیم پیغمبر ۖ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوں کا نتیجہ و ثمر ہے لہذا بارہ ربیع الاول کے دن کو محض رسمی طور پر نہیں منانا چاہئیے بلکہ پیغمبر اسلام ۖ کی تعلیمات اور طریقوں پر عمل کرکے ہمیں انکاحقیقی امتی ثابت کرنا چاہئیے اور اسی عظیم ہستی کو اپنا اصل رہنما مان کر انکے اصولوں پر کاربند رہنا ہوگا۔







