خیبرپختونخوا اسمبلی میں کیڈٹ کالجز کے منصوبوں میں تاخیر اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران سوات، سراروغہ، وانا، مردان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کیڈٹ کالجز کی منظوری دی گئی، تاہم ان میں صرف سوات کیڈٹ کالج فعال ہے جبکہ دیگر منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔پینل آف چیئرمین محمد انور خان کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے پوچھا کہ گزشتہ دس برسوں میں کن اضلاع میں کیڈٹ کالجز کی منظوری دی گئی، کتنے مکمل ہوئے اور کتنے زیر تعمیر ہیں، نیز ان کے قیام کے لیے کوئی باقاعدہ پیمانہ مقرر ہے یا یہ منصوبے شخصی خواہش پر بنائے جاتے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے ابتدائی تعلیم رجب علی عباسی نے بتایا کہ سوات کیڈٹ کالج فعال ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں فیزیبلٹی کا عمل جاری ہے جبکہ مردان کیڈٹ کالج کو جنوری 2027 میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مردان کالج کی ابتدائی لاگت 4 ارب روپے تھی۔انہوں نے بتایا کہ وانا کیڈٹ کالج کی ابتدائی لاگت ایک ارب 281 ملین روپے تھی جو نظرثانی کے بعد 2 ارب 96 ملین روپے ہوگئی ہے اور منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ لکی مروت کیڈٹ کالج کی لاگت 777 ملین سے بڑھ کر ایک ارب 329 ملین روپے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کیڈٹ کالج کی لاگت 3 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ حکومت ان علاقوں میں کیڈٹ کالجز کے قیام کو ترجیح دیتی ہے جہاں بچوں کو زیادہ ضرورت ہے۔ ضم اضلاع کو اس لیے ترجیح دی گئی کہ دہشت گردی کے باعث وہاں تعلیمی ادارے شدید متاثر ہوئے۔ 2019 میں کورونا وبا کے باعث بھی کیڈٹ کالجز کی تعمیر میں تاخیر ہوئی۔احمد کنڈی نے کہا کہ لکی مروت کیڈٹ کالج کی منظوری 2016 میں ہوئی تھی لیکن تاحال منصوبے پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ انہوں نے کہا کہ سوات کے علاوہ کسی بھی کیڈٹ کالج کا منصوبہ مکمل نہیں ہوا، جبکہ مردان اور وانا کالجز کی منظوری بھی بالترتیب 2017 اور 2018 میں دی گئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔پینل آف چیئرمین محمد انور خان نے رولنگ دی کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے۔اجلاس میں ایم پی اے سجاد اللہ نے کوہستان کے بٹن ڈگری کالج کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ محکمہ کالج کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیتا ہے، حالانکہ نہ مطلوبہ اسٹاف موجود ہے اور نہ طلبہ۔ کالج کو تالے لگے ہیں اور چوکیدار تک موجود نہیں۔وزیر قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ کالج میں آٹھ اساتذہ کام کر رہے ہیں، تاہم دور دراز علاقوں میں اساتذہ ڈیوٹی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے کنٹریکٹ بنیادوں پر فکس ایبل ہائرنگ کا فیصلہ کیا ہے، جس میں مقامی افراد کی بھرتی بھی شامل ہوگی۔سجاد اللہ نے کہا کہ موجودہ عملہ بھی باقاعدگی سے موجود نہیں، پرنسپل بھی کبھی کبھار کالج آتے ہیں، جبکہ اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔







