ننھی آیت نور کے قتل میں ملوث تینوں ملزم گرفتار ،ایک کا جسمانی ریمانڈ منظور

ضیاالاسلام

ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے 10اگست کو آیت نور کے والد شفیق جو کہ ایک غریب بیکری کا مزدور ہے نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کراوائی جس پر مقدمہ علت 361 جرم 364A درج رجسٹر ہو کر تفتیش و تلاش شروع کی گئی، گمشدہ بچی کے والدین سے ملاقات کی اور غم کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہونیکی یقین دہانی کروائی وقوعہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کا قیام عمل میں لایا ۔جس میں پولیس کے سینئر افسران ایس ایس پی انوسٹی گیشن ہریپور ، ڈی ایس پی سٹی ، ڈی ایس پی ہیڈکواٹر/انوسٹی گیشن ، ایس ایچ اوز ، سٹی ،ٹی آئی پی، خانپور انچارج انوسٹی گیشن تھانہ سٹی و ٹی آئی پی کے علاوہ پہلی بار خصوصی طور پر فی میل پولیس افسران جن میں ایس پی سکیورٹی ہزارہ ریجن ، آے ایس آئی سی ٹی دی، انچارج کمپلین سیل،سمیت فی میل تفتیشی افسران پر مشتمل ٹیم کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ۔سی سی ٹی وی فوٹیجز ،سی ڈی ار،جیو فینسینگ اور دیگر تکنیکی شہادتیں اکھٹی کرنے کے لیے فی میل و میل افسران پر مشتمعل آئی ٹی کی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ۔واضح رہے دوران تفتیش 200 سی سی ٹی وی کے ریکارڈ حاصل کیے فوٹیجز کا تجزیہ کیا۔تفتیش سے منسلک 20مشتبہ نمبرات کے ریکارڈ حاصل کیے جاکر تجزیے کیے گئے۔ 12 کیمرے ایسے تھے جن سے تفتیش آگے بڑھی اور بچی کے گھر سے نکالنے،لے جانے اور ملزمان کی شناخت پیدل وموٹرسائیکل کی گئی۔جن کوٹریس کر کے 3ملزمان عثمان ولد لقمان سکنہ ماڈل ٹان،قاسم ولد نثار احمد اورطلحہ ولد فرید سکنہ کانگڑہ کو گرفتار کرکے وقوعہ میں استعمال ہونے والا موٹرسائیکل بھی برآمد کرلیا ۔ انتہائی باریک بینی سے تمام ملزمان سے تفتیش کے دوران ملزم عثمان نے معصوم بچی کو اغوا اور زنا بالجرکا اعتراف عدالت میں کیا جس کا اقبال جرم جج نے ریکارڈ کیا

۔ملزم قاسم اور طلحہ کو برائے جسمانی ریمانڈ 10 یوم عدالت میں پیش کیا گیا ۔جج نے کم عمری کے باعث ملزم طلحہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر سنٹرل جیل ہری پور میں داخل کا حکم دیا جبکہ ملزم قاسم کا دو یوم کا جسمانی ریمانڈ پولیس کو دیا ۔ تفتیش کا دائرہ کار مذید وسیع کرتے ہوئے تکنیکی شواہد اور مسلسل سرچ آپریشن بھی بچی کی تلاش کیلئے کیے جن میں ایک وقت میں 400 سے زائد پویس افسران و جوانان ،ٹی ایم اے اور واسا کا سٹاف مختلف ٹیموں میں تقسیم ہو کر پورے علاقے کی سرچ کرتے تھے ۔ دوران سرچ سینئر پولیس افسران نے پورے علاقے میں نالے ، گٹر،گھاس کے گھنے ایریا، یونیورسٹی آف ہریپور کے طراف میں ، کھاد فیکٹری گرانڈ ،پٹھان کالونی کے ملحقہ علاقوں ،خالی پلاٹ ، ویران جگہوں میں وقوعہ کے روز سے برآمدگی تک مسلسل جاری رکھے ۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا نوٹس لیا۔ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے ہریپور کا دورہ کیا ۔ تمام سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش کا انتہای باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ڈی پی او ہریپور نے ڈی آئی جی ہزارہ کو کی گئی کی تفتیش،حاصل کی گئیں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ملزمان کے بیانات پر باقاعدہ تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ڈی آئی جی ہزارہ نے آیت نور کے والد اور اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کروائی، واضح رہے اپنے تمام تفتیشی مراحل ، سرچ آپریشن اور انٹاروگیشن میں آیت نور کے والد اور رشتے داروں کو ڈی پی او ہری پور اور تفتیشی افسران نے ہمراہ رکھتے ہوئے آگاہی فراہم کی ۔ تفتیش میں کافی چیلنجز کابھی سامنا رہا کیونکہ معصوم آیت نور کے کیس میں ملوث ملزمان کم عمر تھے اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے براہ راست سم رجسٹریشن نہیں تھی اسلئے ان کی فیملیز اور دیگر مشکوک نمبرات کا ریکارڈ حاصل کیا جا کر ان کے تکنیکی تجزیے آئی ٹی کی ٹیم نے کیے ۔وقوعہ میں ملوث نامعلوم چوتھا ملزم حسن خان ولد سدوزئی سکنہ حال پٹھان کالونی ٹریس کر کے گرفتار کیا اور ملزم کی نشاندہی پرلنک روڈ واقع یونیورسٹی روڈ نزد وئیر ہاس خالی پلاٹ میں انتہای گہرے،خشک اور گھاس میں چھپے ہوئے کنویں کو دریافت کر کیمعصوم بچی آیت نور کی نعش کو ریسکیور 1122 کو کو فوری طلب کرکے ان کی مدد سے ریکور کیا۔ریکوری کے تمام تر عمل کی براہ راست نگرانی ڈی پی او ہری پور اورسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کے سینئر افسران نے کی۔معصوم آیت نور کی نعش کو ڈی پی او ہری پور اور سینئر پولیس افسران نے ہمراہ ریسکیو 1122 کے ٹراما سنٹر ہری پور منتقل کیا جہاں پر سینئر ڈاکٹران کے پوسٹمارٹم کا عمل مکمل کر کے ایکسرے،ڈی این اے، کیڈنی،انٹیسٹائین اور تمام جسمانی سیمپل حاصل کیے جا کر تجزیے کے لیے بھجوایا۔مقدمہ میں مذید تفتیش جاری ہے۔ہری پور پولیس ہری پور کیے علما اکرام ، تاجر برادری ،میڈیا نمائندگان ، سول سوسائٹی، علاقہ معززین اور شرفا کی انتہائی مشکور ہے ہے کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ پٹھان کالونی اور ملحقہ علاقہ جات کے مکینون اور تاجروں کے بھی انتہاہی مشکوک ہیں نصب شدہ کیمرا جات اور سی سی ٹی وی فوٹیجز تک پولیس کی ہرممکن رسائی کی ۔ ڈی پی او ہری پور کی جانب سے شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہوئے ہیں ان کو فنکشنل رکھیں اور ڈی وی ایر کو محفوظ رکھیں تاکہ ایسے ہندولناک کرائم کی صورت میں ملزمان کو کیفر کرداد تک پہنچانے میں شہادت ملے۔ ہری پور پولیس چین آف انوسٹی گیشن کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں پرعزم ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed