ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن میں نرسنگ کی بھرتیوں میں شفافیت کی پامالی کا انکشاف ہوا ہے۔60 نئی بھرتیوں میں پاکستان نرسنگ کونسل کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے بغیر تجربہ کے 30 میل فی میل نرسز کو بھرتی کیا گیا ۔جب کہ مبینہ طور نوازشات کرنے کے لئے ادارہ میں کنٹریکٹ پر تجربہ کار نرسز کو چھوڑ کر سفارشیوں کو بھرتی کیا گیا ۔اس حوالے سے پیر کے روز ایبٹ آباد پریس کلب میں متاثرہ امیدواروں محمد شاہ فیصل ،مانور جمیل ،مریم بنارس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ شفا انٹرنیشنل جیسے ادارہ میں تین چار سال کا تجربہ رکھتے ہیں اور گزشتہ چھ ماہ سے ایوب ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن میں کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایٹا کے تحت نرسنگ کی نئی بھرتی کے لئے امتحان لیا گیا جس میں خیبر پختونخوا سمیت دیگر صوبوں سے 2 سو امیدوار موجود تھے۔4 جنوری کو نئی بھرتیوں کے لئے اشتہار پبلش ہوا تھا۔دو مارچ کو ٹیسٹ ہوا جس کے بعد ہسپتال کمیٹی کے ایم ڈی ،این ڈی ،اور ایچ آر منیجر کی سربراہی میں ایٹا میں پچاس نمبرز تک کے غیر تربیت یافتہ لوگوں کو بھرتی کیا جب کہ تربیت یافتہ نرسز کے 60 سے اوپر نمبرز ہیں ان کو نظر انداز کیا گیا۔متاثرین کا کہناتھا پاکستان نرسنگ کونسل کے قانون کے مطابق رجسٹریشن کے بعد دو سال کا تجربہ ضروری ہے۔ جب کہ کمپلیکس میں ان قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ۔انہوں نے مذید بتایا کہ 13 اگست کے بعد کی گئی بھرتی کی لسٹ تک تاحال آویزاں نہیں کی گئی۔اور ادارہ کے متعلقہ افسران بات تک کرنے اور رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت معلومات دینے کو تیار نہیں۔اور اس سلسلہ میں بے قاعدگیوں پر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن ریٹائرڈ سرمد سلیم اکرم،سٹیزن پورٹل اور ادارے کے افسران کو شکایت درج کرائی ہے جس کا کوئی جواب نہیں ملا ہے۔انہوں نے مذید بتایا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کہتے ہیں کسی ادارے کے خلاف بدعنوانی کے ثبوت ہوں تو سامنے لائیں ہمارے پاس تمام ثبوت ہیں اب انصاف دلائیں تاکہ حقدار کو حق مل سکے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر انصاف نہ ملا تو قانونی طور پر انصاف کے حصول سے پیچھے نہیں ہوں گے۔







