خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی رکن مشتاق غنی نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق متفقہ قرارداد پیش کردی، جس میں عمران خان کو ذاتی معالجین کی نگرانی میں طبی سہولیات فراہم کرنے اور انہیں فوری طور پر شفا ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انہیں ذاتی معالجین سے علاج کی اجازت دی جائے اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو اپنے اہل خانہ سے بلا روک ٹوک ملاقات کی اجازت بھی دی جائے۔ایوان نے قرار دیا کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق اور عزتِ نفس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، لہذا عمران خان کی صحت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور انہیں بہترین طبی سہولیات، ذاتی معالجین سے علاج اور اہل خانہ سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے۔قرارداد میں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران خان کو شفا ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم نہ کیے جانے کی بھی پرزور مذمت کی گئی۔پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے فiscal Responsibility and Debt Management Bill 2026 کی منظوری دے دی۔ بل کی منظوری کے لیے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے تحریک پیش کی۔بل کا مقصد مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانا، قرض لینے کی حدود کو منظم کرنا اور تمام محکموں میں عوامی قرضوں کی نگرانی کے لیے مثر انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔بل کے مطابق محکموں اور خودمختار اداروں کو صوبائی حکومت کی باقاعدہ پیشگی منظوری کے بغیر قرض حاصل کرنے سے روک دیا جائے گاگرانٹس حاصل کرنے کے لیے وزیراعلی کی واضح منظوری لازمی قرار دی جائے گی۔بل کے تحت قرضوں کے انتظام کا دفتر: موجودہ ڈیبٹ مینجمنٹ یونٹ کی جگہ ایک پیشہ ورانہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کریں گے۔بل کے مطابق خسارے اور قرضوں میں کمی: قرضوں کی ادائیگی کی حدود کم کی جائیں گی اور غیر ضروری نقد ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے کے رجحان میں کمی لائی جائے گی تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز دستیاب ہوسکیں







