ڈالر کا زوال، چین کا ابھار اور تیسری جنگِ عظیم کے سائے

تحریر: عباس مہد

بین الاقوامی تعلقات، عالمی جیو پولیٹکس اور جدید سیاسیات کے طالبعلم کی حیثیت سے اگر ہم کرۂ ارض پر برپا ہونے والے خاموش تلاطم، ساختیاتی تبدیلیوں اور گہرے جیو سٹریٹجک زلزلوں کا سائنسی و محققانہ جائزہ لیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ آنے والے وقت میں دنیا ایک ایسے انتہائی غیر معمولی، عبرت ناک اور تاریخی موڑ پر کھڑی ہوگی جہاں پرانے طاقت کے مراکز کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو رہا ہوگا اور بالکل نئے تزویراتی، دفاعی اور معاشی بلاکس جنم لے رہے ہوں گے۔ یہ تاریخِ انسانی کا ایک ایسا نازک اور تحیر کن موڑ ہے جہاں اب یہ سوال یکسر ختم ہو چکا ہے کہ کیا دنیا بدلے گی یا نہیں؟ بلکہ اصل اور بنیادی سوال یہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ عالمی تبدیلی کتنی ہولناک، تیز رفتار اور ہمہ گیر ہوگی؟ جس ڈرامائی انداز کے ساتھ کرۂ ارض کی معیشت، عالمی سفارت کاری، دفاعی صف بندیاں اور ریاستوں کے باہمی تعلقات نئے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں، اس سے یہ بات کسی شک و شبہے کے بغیر ثابت ہوتی ہے کہ ہم ایک ایسی نادیدہ عالمی ری سٹرکچرنگ اور تاریخی انقلاب کے دور میں داخل ہو چکے ہیں جس کے اثرات تمام تر ملکوں کی سرحدوں، معیشتوں، حکومتی ڈھانچوں اور عام انسان کی زندگی پر بلاواسطہ طور پر مرتب ہونے جا رہے ہیں۔
آنے والے وقت میں دنیا جس سب سے بڑے اور خوفناک معاشی دھماکے کی شاہد بنے گی، وہ امریکی ڈالر کی اس بلا شرکتِ غیرے اجارہ داری اور مالیاتی فرعونیت کا حتمی خاتمہ ہوگا جس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے برٹن ووڈز نظام کے تحت پورے کرۂ ارض کو اپنے معاشی شکنجے میں جکڑ رکھا تھا۔ آنے والے دور میں ڈالر کی حیثیت ایک عالمگیر تجارتی کرنسی کے بجائے محض ایک محدود علاقائی کرنسی تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ عالمی معیشت میں اس وقت ڈی-ڈالرائزیشن کی جو لہر چل رہی ہے، وہ آنے والے وقت میں ایک تباہ کن معاشی طوفان کی شکل اختیار کر جائے گی۔ دنیا کی ۵۰ فیصد سے زائد ریاستیں اپنی باہمی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کو یکسر مسترد کر کے مقامی کرنسیوں، برکس کے متوقع مالیاتی فریم ورک، اور ڈیجیٹل بلاک چین اثاثوں کو اپنا چکی ہوں گی۔ امریکی ڈالر کے اس تاریخی زوال کے نتیجے میں واشنگٹن کا وہ سب سے بڑا تزویراتی حربہ مکمل طور پر ناکارہ ہو جائے گا جس کے ذریعے وہ دنیا بھر کے ناگزیر ممالک پر یکطرفہ معاشی پابندیاں عائد کر کے ان کی معیشتوں کو مفلوج کر دیا کرتا تھا، اور اس کا سیدھا نتیجہ مغرب کی تین سو سالہ معاشی و سیاسی سیادت کے حتمی خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔اسی معاشی اور سیاسی موڑ پر اگر ہم بیجنگ کی طرف دیکھیں، تو آنے والے وقت میں چین عالمی معاشی، تجارتی اور جیو پولیٹیکل نظام کے آخری اور بلند ترین نقطے یعنی دنیا کی واحد معاشی سپر پاور کے مقام پر پہنچ چکا ہو گا۔ چین کا اربوں ڈالر کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) محض ایک روایتی سڑک یا بندرگاہوں کا جال نہیں، بلکہ یہ آنے والے دور کا وہ نیا عالمی نظام ہے جس نے مشرق سے لے کر یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک کے تجارتی راستوں کو بیجنگ کے مرکز سے جوڑ دیا ہو گا۔ آنے والے وقت میں چین نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی پیداواری اور مالیاتی طاقت بن چکا ہو گا، بلکہ وہ مصنوعی ذہانت (AI)، گرین انرجی اور مائیکرو چپس (Semiconductors) کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر مکمل اجارہ داری حاصل کر کے دنیا کا نیا تکنیکی اور سائنسی رہنما بن جائے گا۔ امریکہ کی تمام تر معاشی ناکہ بندیاں، ہند-بحرالہند میں قائم کیے گئے "کواڈ” اور "اوکس” جیسے ملٹری بلاکس چین کی اس قدرتی اور التوا سے پاک پیش قدمی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوں گے۔اس تمام تر عالمگیر اور ہولناک کشمکش کے پس منظر میں یہ سوال ہر ذہن میں شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ کیا آنے والے وقت میں دنیا تیسری جنگِ عظیم (World War 3) کے ہولناک اور بھیانک دوزخ میں دھکیل دی جائے گی؟ بین الاقوامی تعلقات کے حقیقت پسندانہ (Realist) اصولوں اور سائنسی تجزیے کے مطابق، آنے والے دور میں دو روایتی ایٹمی طاقتوں کے درمیان کھلی اور آمنے سامنے کی ایٹمی جنگ کا امکان تو بے حد کم ہو گا کیونکہ تمام بڑی طاقتیں مانتی ہیں کہ ایٹمی تصادم کا نتیجہ باہمی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن اس کے برعکس، دنیا ایک ایسی دائمی، بے رحم اور ہائبرڈ جنگ (Hybrid Warfare) کا مسکن بنی رہے گی جو روایتی جنگ سے کہیں زیادہ موذی اور تباہ کن ہو گی۔ یہ تیسری جنگِ عظیم سرحدوں پر فوجوں کے ٹکراؤ سے زیادہ سائبر حملوں، خلاء میں سیٹلائٹ سسٹمز کی تباہی، معاشی بلیک میلنگ، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوسرے ممالک کے اندرونی و سیاسی ڈھانچوں کو بٹھانے کی صورت میں جاری رہے گی۔ یوکرین، مشرقِ وسطیٰ اور تائیوان جیسے خطے اس نادیدہ اور بھیانک تیسری جنگِ عظیم کے بنیادی مقتل بنے رہیں گے۔آنے والے وقت میں دنیا جن نئی اور حیران کن پیشگوئیوں سے نبرد آزما ہو گی، ان میں مشرقِ وسطیٰ کا مکمل سیاسی کٹھ جوڑ اور اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کا جڑ سے اکھڑ جانا شامل ہے۔ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، ایران اور چین کا قائم ہونے والا تزویراتی اتحاد مشرقِ وسطیٰ سے مغرب کی صدیوں پرانی مداخلت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ دوسری طرف، بیسویں صدی میں قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی ایم ایف جیسے مفلوج اور ظالمانہ ادارے اپنی اخلاقی اور قانونی افادیت یکسر کھو چکے ہوں گے، اور ان کی جگہ برکس، شانگھائی تعاون تنظیم اور علاقائی کونسلیں دنیا کے فیصلے کر رہی ہوں گی۔اس طوفانی، پرپیچ اور سحر انگیز عالمی منظر نامے میں ہمارے اپنے پیارے وطن پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات اور اس کا جیو پولیٹیکل مقام انتہائی حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہو گا۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے پرانی روایتی "غیر جانبدار” رہنے یا دونوں کشتیوں میں سوار رہنے کی سفارتی پالیسی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہو گی۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی، دفاعی اور معاشی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ گہرے اور ناقابلِ تنسیخ ہو جائیں گے، کیونکہ سی پیک کا اگلا انڈسٹریل فیز پاکستان کی قومی بقا اور جیو اکنامک وجود کا محور بن چکا ہو گا۔ دوسری طرف، امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سیکیورٹی کے پرانے لین دین سے نکل کر محض ایک محدود اور احتیاط پر مبنی سیاسی فاصلے تک رہیں گے۔ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک اور بالخصوص وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تجارتی راستے کھولنے ہوں گے تاکہ وہ اس خطے کی نئی معاشی شاہراہ کا حقیقی محور بن سکے۔آنے والے وقت میں پاکستان کی عالمی کامیابی کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہو گا کہ ہماری قیادت اپنے اندرونی سیاسی عدمِ استحکام، معاشی تنزلی اور اداروں کی کھینچ تان پر کس حد تک قابو پاتی ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو سیکیورٹی ریاست کے سانچے سے نکال کر جیو اکنامکس پر منتقل نہ کیا، اور وسطی ایشیا سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک تجارتی راہداریاں نہ کھولیں، تو عالمی بلاک بندی کے اس طوفان میں ہماری سفارتی اہمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ بھارت کی جانب سے معاشی و سفارتی دباؤ بڑھتا رہے گا، جس کا جواب صرف مضبوط معیشت، جدید تکنیکی صلاحیت اور متوازن سفارت کاری سے ہی دیا جا سکے گا۔ آنے والے دور میں جنگیں فوجوں سے زیادہ معاشی خودداری اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جیتی جائیں گی۔حاصلِ کلام یہ ہے کہ آنے والے وقت کی دنیا رحم دلی، اخلاقی نعروں یا جذباتی رویوں پر نہیں بلکہ صرف اور صرف طاقت، معاشی سیادت، ٹیکنالوجیکل پیش رفت اور قومی مفاد کی بنیاد پر چلے گی۔ ڈالر کا زوال، چین کا ابھار، ہائبرڈ قسم کی تیسری جنگِ عظیم کے سائے، مشرقِ وسطیٰ کی آزادی اور پاکستان کے لیے درپیش سخت سفارتی امتحانات اس نئے عالمی دور کے سب سے بڑے سچ ہیں۔ جو قومیں وقت کی اس بدلی ہوئی چال کو وقت سے پہلے سمجھ کر اپنے قبلے درست کر لیں گی، وہی اس نئے عالمی آرڈر میں اپنا وجود اور وقار برقرار رکھ سکیں گی۔ بصورتِ دیگر، تاریخ کا پہیہ انتہائی بے رحم ہے اور جو قومیں بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتی ہیں، وہ جغرافیائی نقشوں پر صرف ایک ماضی کا باب بن کر رہ جاتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جذباتی نعرے بازی چھوڑ کر سائنسی فکر اور عمل کا راستہ اپنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed