بونیر کے رہائشی کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے بونیر کے رہائشی سید عمر کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل)میں شامل کرنے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سید عمر گزشتہ 16 سال سے ملائیشیا میں مقیم ہیں، جہاں ان کا کاروبار ہے جبکہ ان کی فیملی بھی ملائیشیا میں رہائش پذیر ہے۔ درخواست گزار چھٹیوں پر پاکستان آئے تو ان کا نام پی سی ایل میں شامل کردیا گیا۔وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ملائیشیا میں پاکستانی ہائی کمیشن میں بعض افراد نے درخواست گزار کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کی بنیاد پر ان کا نام پی سی ایل میں شامل کیا گیا۔ درخواست گزار ملائیشیا میں فوٹو اسٹیٹ اور دستاویزات کی تصدیق کا کاروبار کرتے ہیں۔وکیل کے مطابق ایک شکایت کنندہ نے پاکستانی سفارتخانے کے ایک افسر کی مبینہ ملی بھگت سے درخواست گزار کے خلاف جعلی رپورٹ تیار کی، جس کی بنیاد پر ان کا نام پی سی ایل میں شامل کیا گیا۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملائیشیا میں پاکستانی سفارتخانے کی رپورٹ کی بنیاد پر درخواست گزار کا نام پی سی ایل میں شامل کیا گیا، جبکہ وہاں بعض افراد نے ان کے خلاف شکایات درج کرائی تھیں۔اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کو کوئی نوٹس یا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا؟وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ سید عمر کو کوئی شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا اور بغیر نوٹس کے ان کا نام پی سی ایل میں شامل کردیا گیا۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار واپس ملائیشیا جانا چاہتے ہیں، اس لیے ان کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد سید عمر کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed