لندن۔رپورٹ۔۔سید عاصم علی قادری
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں حضرت مریمؑ کا 55.6 میٹر بلند مجسمہ باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے، جو یورپ میں حضرت مریم کا بلند ترین مجسمہ ہونے کے ساتھ ساتھ یورپ کا سب سے بلند مذہبی مجسمہ بھی بن گیا ہے۔ یہ مجسمہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں واقع مشہور ’’مسیح نجات دہندہ‘‘ کے مجسمے سے بھی بلند ہے۔یہ غیر معمولی مجسمہ وسطی پولینڈ کے چھوٹے سے گاؤں کونوتوپے (Konotopie) میں تعمیر کیا گیا ہے، جہاں آبادی تقریباً 130 افراد پر مشتمل ہے۔ مجسمے کی باقاعدہ نقاب کشائی اور مذہبی تقدیس کی تقریب 15 اگست کو منعقد ہوئی، جس روز دنیا بھر کے کیتھولک مسیحی حضرت مریمؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے مذہبی تہوار کو مناتے ہیں۔تقریب کی قیادت وِووسٹوک کے بشپ کرژیشتوف وینتکوفسکی نے کی۔ تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں پولینڈ کے سابق صدر اور نوبیل امن انعام یافتہ لیخ والیسہ بھی شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق کنکریٹ سے تیار کیے گئے اس دیوہیکل مجسمے کا وزن تقریباً 60 ہزار ٹن ہے اور اسے مکمل ہونے میں 18 ماہ لگے۔ منصوبے پر تقریباً 100 ملین پولش زلوٹی خرچ ہوئے، جو تقریباً 2 کروڑ 32 لاکھ یورو کے برابر ہیں۔اس منصوبے کی مکمل مالی معاونت پولینڈ کے دولت مند کاروباری جوڑے رومان اور گرازینا کارکوسک نے کی۔رپورٹ کے مطابق کونوتوپے میں حضرت مریم کے مجسمے کا ابتدائی ڈیزائن مجسمہ ساز آدم یاکوب ماتیکوفسکی نے صرف دو میٹر کے ماڈل کی صورت میں تیار کیا تھا۔منصوبے کے چیف انجینئر بارتومیئ نیشوووسکی کے مطابق مجسمے کے لیے خصوصی سانچے میں استعمال ہونے والا مطلوبہ مواد پولینڈ میں دستیاب نہ تھا، اس لیے اسے اٹلی میں تیار کروایا ۔ یہاں ایک مشاہداتی پلیٹ فارم بھی بنایا گیا ہے جو اس چبوترے سے تقریباً 15 میٹر کی بلندی پر واقع ہے جس پر حضرت مریمؑ کا مجسمہ نصب ہے۔







