کشمیریوں نے بھارتی یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منایا،احتجاجی مظاہر ے

کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منایا،احتجاجی مظاہر ے ،جلسے جلوس اور ریلیاں منعقدکی گئیں اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میںجاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائی گئی اور کشمیر ی عوا م کو حق خودارادیت دلانے کے لئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔اس موقع پر بھارت نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھائونی میں تبدیل کردیا اورپابندیاں مزید سخت کرکے جگہ جگہ نفری تعینات کر دی گئی ،کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا گیا ۔تفصیل کے مطابق دنیا بھر میں کشمیریوں نے 15اگست کو بھاری یوم آزادی کوحسب روایت یوم سیاہ کے طورپر منایا اور جموں و کشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ۔ بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کو کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ریاست پر غاصبانہ قبضہ کیا، 79 برسوں میں 5 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔اس موقع پر پاکستان اور آزادکشمیر سمیت دنیابھر میں کشمیریوں نے بھارت مخالف مظاہرے کئے اورریلیاں نکالیں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی اقدامات اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرا ئی گئی ۔کشمیریوں ناے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا پیدائشی حق دلانے کے مطالبے کودوہرایا اور عالمی برادری سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔کشمیر میڈیا سیل کے مطابق بھارتی انتظامیہ کی جانب سے بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ علاقے میں پابندیاں مزید بڑھا دی گئی تھیں ، سری نگر اور دیگر قصبوں میں حساس مقامات پر بھارتی فوجی، پیرا ملٹری اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔بھارتی فورسز نے اہم شاہراہوں پر اضافی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں، بھارتی فورسز نے مزید ناکے بھی لگا دیئے، گاڑیوں، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی گئی، بھارتی فورسز نے سری نگر کے بخشی سٹیڈیم کو مکمل طور پر حصار میں لے لیا۔بخشی سٹیڈیم میں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد مرکزی تقریب ہو نا تھی ، سٹیڈیم کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جارہی، ماہر نشانہ باز اہلکار بھی تعینات کر دیئے گئے۔سخت ترین سکیورٹی کے باوجود کشمیری عوام بڑی تعداد میں سڑکوں میں نکل آئے اورآزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر زبردست احتجاج کر کیا گیا ۔یومِ سیاہ کی کال کی آزادی پسند رہنمائوں اور مختلف تنظیموں نے بھی حمایت کا اعلان کررکھاتھا ۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا۔ میر واعظ عمر فاروق نے ایک بار پھر پابندی عائد کیے جانے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے کی آمد کے موقع پر انہیں دوبارہ گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔میر واعظ نے جمعہ کے روز بار بار عائد کی جانے والی پابندیوں کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر جمعہ کو اس طرح کی من مانی پابندیاں عائد کرنا انتہائی افسوسناک ہے، انہوں نے مقبوضہ وادی میں حالات معمول پر ہونے کے بھارتی دعوے پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکام واقعی اپنے ہی بیان کردہ معمول کے حالات پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں بار بار جامع مسجد جانے سے روکنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ جب حکام خود اپنے بیانیے پر اتنا اعتماد نہیں کرتے کہ انہیں جامع مسجد جانے کی اجازت دی جائے تو پھر معمول کے حالات کے اس دعوے کی کیا حیثیت اور اعتبار باقی رہ جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed