پشاور پریس کلب کے زیراہتمام صحافیوں کے پوزیشن ہولڈرز بچوں کیلئے تقریب تقسیم انعامات

پشاور پریس کلب کے زیراہتمام پشاور کے نشتر ہال میں صحافیوں کے پوزیشن ہولڈر بچوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب ایک ایسی خوبصورت اور یادگار تقریب بن گئی جس میں تعلیم، کامیابی، والدین کی محنت، صحافی برادری کی فلاح اور وطن سے محبت کے جذبات ایک ساتھ نظر آئے۔ تقریب میں جہاں تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں کو ایوارڈز سے نوازا گیا، وہیں پاکستان کے جشن آزادی کی خوشیاں بھی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئیں۔ پشاور پریس کلب کی جانب سے منعقدہ اس پروقار تقریب میں خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں پوزیشن ہولڈر بچوں، ان کے والدین، صحافیوں، پشاور پریس کلب کے عہدیداروں، اراکین، معاون اداروں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

  

تقریب کا مقصد صحافیوں کے بچوں کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں مستقبل میں مزید محنت کے لیے ترغیب دینا تھا۔ تقریب کے دوران پوزیشن ہولڈر بچوں کے چہروں پر کامیابی کی خوشی نمایاں تھی جبکہ ان کے والدین اپنے بچوں کو اعزاز حاصل کرتے دیکھ کر فخر محسوس کر رہے تھے۔ کسی بھی والدین کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کا لمحہ شاید ہی ہو کہ ان کا بچہ اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل کرے اور اسے ایک بڑے پلیٹ فارم پر سب کے سامنے سراہا جائے۔ وزیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے پوزیشن ہولڈر بچوں کو ان کی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے والدین کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی کامیابی کے پیچھے ان کی اپنی محنت کے ساتھ ساتھ والدین کی دعائیں، رہنمائی اور قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہی باصلاحیت نسل مستقبل میں ملک و قوم کی قیادت کرے گی۔

مزمل اسلم نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی میدان میں کامیابی حاصل کرنا یقینا قابل فخر ہے، تاہم اصل کامیابی یہ ہے کہ نوجوان اپنی تعلیم کو ملک اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے بچوں کو مزید محنت، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ اس موقع پر انہوں نے پشاور پریس کلب کی جانب سے صحافیوں اور ان کے بچوں کی فلاح و بہبود اور تعلیمی حوصلہ افزائی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے میں ایک اہم ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود بھی ضروری ہے۔ تقریب کا ایک اہم اور خوبصورت پہلو جشن آزادی کی تقریبات کا انعقاد بھی تھا۔ چونکہ ملک بھر میں جشن آزادی کی تیاریاں جاری تھیں، اس لیے پشاور پریس کلب نے اس تقریب کو قومی جذبے سے بھی جوڑ دیا۔ بچوں نے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے اور سبز ہلالی پرچم والی جھنڈیاں اٹھائے تقریب میں شرکت کی۔ ان کے لباس اور چہروں پر جشن آزادی کا جوش نمایاں تھا۔ تقریب کے دوران جشن آزادی کا کیک بھی کاٹا گیا۔ وزیر خزانہ مزمل اسلم، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، نائب صدر اور ایجوکیشن کمیٹی کے چیئرمین ضیا الحق، صحافیوں، بچوں اور دیگر شرکا نے کیک کٹنگ میں شرکت کی۔

کیک کاٹنے کے موقع پر تقریب میں موجود بچوں کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ بچوں نے قومی جذبے کے ساتھ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔جشن آزادی کے موقع پر بچوں میں پاکستانی پرچم، سبز ہلالی پرچم والی جھنڈیاں اور قومی پرچم کے بیجز بھی تقسیم کیے گئے۔ بچوں نے بیجز اپنے لباس پر سجائے اور ہاتھوں میں قومی پرچم تھام کر تقریب میں شرکت کی۔ یہ منظر نہ صرف بچوں کے لیے خوشی کا باعث تھا بلکہ والدین اور صحافیوں کے لیے بھی باعث فخر تھا۔ ایک طرف بچوں کو ان کی تعلیمی کامیابی پر ایوارڈز دیے جا رہے تھے اور دوسری طرف وہی بچے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھائے جشن آزادی منا رہے تھے۔ یوں تقریب میں تعلیم اور حب الوطنی کا ایک خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملا۔ یہ پیغام بھی سامنے آیا کہ علم اور تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی قوم کو ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ صحافیوں کے بچوں کی تعلیمی کامیابیوں کو اجاگر کرنا اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ زندگی اکثر انتہائی مصروف اور مشکل ہوتی ہے۔ نیوز روم، فیلڈ، رپورٹنگ، بریکنگ نیوز اور مختلف اہم قومی و علاقائی واقعات کی کوریج کے دوران صحافیوں کو طویل اوقات تک اپنے فرائض انجام دینا پڑتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت اور تعلیمی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دینا والدین کے لیے ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اس لیے جب کسی صحافی کا بچہ تعلیمی میدان میں پوزیشن حاصل کرتا ہے تو یہ کامیابی صرف بچے کی نہیں بلکہ پورے خاندان کی کامیابی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشاور پریس کلب کی جانب سے ان بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریب کا انعقاد ایک مثبت اور قابل تحسین روایت ہے۔
پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض ،نائب صدر اور ایجوکیشن کمیٹی کے چیئرمین ضیا الحق اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے پوزیشن ہولڈر بچوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری کے بچوں کی کامیابی پوری صحافی کمیونٹی کے لیے باعث فخر ہے اور پشاور پریس کلب آئندہ بھی صحافیوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی حوصلہ افزائی سے ان میں آگے بڑھنے اور مزید کامیابیاں حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر بچوں کی محنت کو بروقت سراہا جائے تو ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ مستقبل کے چیلنجز کا زیادہ حوصلے سے سامنا کرتے ہیں۔

 


تقریب میں والدین کی بھرپور شرکت نے بھی اس پروگرام کو مزید بامقصد بنا دیا۔ والدین اپنے بچوں کو ایوارڈز حاصل کرتے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ کئی والدین کے لیے یہ موقع ان کی برسوں کی محنت، بچوں کی تعلیم کے لیے دی جانے والی توجہ اور قربانیوں کا اعتراف بھی تھا۔ اس تقریب کا پیغام صرف پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں تک محدود نہیں تھا بلکہ تمام بچوں کے لیے یہ ایک حوصلہ افزا پیغام تھا کہ کامیابی صرف چند بچوں کا حق نہیں، بلکہ جو بھی طالب علم محنت، مستقل مزاجی اور لگن کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھے وہ کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
وزیر خزانہ مزمل اسلم نے اس موقع پر صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافت کے فروغ اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تاریخی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے جدید سہولیات سے آراستہ پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کی ازسرنو تعمیر کا جلد سنگ بنیاد رکھنے اور پشاور کے صحافیوں کے لیے الگ جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ مزمل اسلم کے مطابق مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں کارکن صحافیوں کو پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی غرض سے ایک ارب روپے، صوبے میں میڈیا کالونیز کے قیام، فزیبلٹی اور ڈیزائن کے لیے 50 کروڑ روپے، جبکہ جدید سہولیات سے آراستہ پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بینک آف خیبر کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسن رضا کو پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کی تزئین و آرائش اور دیگر مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پریس کلبوں کو گرانٹس کے اجرا کے ساتھ خیبر پختونخوا جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کی مالیت 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کردی ہے جبکہ اس پر منافع کی شرح بھی ساڑھے دس فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے پشاور پریس کلب کے لیے علیحدہ جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے اور جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کی سیڈ منی آئندہ سال ایک ارب روپے تک بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔


انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور پریس کلب کے مطالبے پر میڈیا اداروں کے اشتہارات اور بقایاجات کو میڈیا اداروں کے ذمہ کارکن صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کے واجبات کی ادائیگی اور کم از کم اجرت پر عمل درآمد یقینی بنانے کے ساتھ مشروط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا میں میڈیا ادارے مضبوط اور ترقی کریں، تاہم اس کے ساتھ کارکن صحافیوں کو بہتر، محفوظ اور باوقار حالات کار فراہم کرنا بھی یقینی بنایا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر پشاور پریس کلب کی جانب سے کامیاب تقریب کے انعقاد پر تمام معزز مہمانان گرامی، صحافیوں، معزز اراکین، والدین، پوزیشن ہولڈر بچوں اور معاون اداروں سے اظہار تشکر کیا گیا۔ پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے تمام پوزیشن ہولڈر بچوں کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں والدین اور بچوں کی بھرپور شرکت نے پروگرام کو مزید بامقصد اور یادگار بنا دیا۔
پشاور پریس کلب انتظامیہ نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی اور صحافیوں، ان کے بچوں اور پشاور پریس کلب کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ پریس کلب نے بینک آف خیبر کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسن رضا، محکمہ ثقافت و سیاحت خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل شاہد خان اور دیگر معاون اداروں و شخصیات کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے تقریب خوش اسلوبی سے منعقد ہوئی۔ انتظامیہ نے تقریب کے منتظمین، پشاور پریس کلب کی ایجوکیشن کمیٹی، معاونین اور تمام شرکا کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون اور بھرپور شرکت کے بغیر اس کامیاب تقریب کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ پشاور پریس کلب میں منعقدہ یہ تقریب محض ایوارڈز تقسیم کرنے یا جشن آزادی منانے کا ایک پروگرام نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے خوبصورت خیال کی عملی تصویر تھی جس میں نئی نسل کی کامیابی کو سراہا گیا، والدین کی محنت کو خراج تحسین پیش کیا گیا، صحافی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بچوں کے دلوں میں وطن سے محبت کے جذبات کو مزید اجاگر کیا گیا۔
پوزیشن ہولڈر بچوں کے ہاتھوں میں ایوارڈز اور قومی پرچم اس تقریب کی سب سے خوبصورت تصویر بن گئے۔ ایک طرف ان بچوں کی برسوں کی محنت کامیابی کی صورت میں سب کے سامنے تھی اور دوسری جانب سبز ہلالی پرچم انہیں اس وطن سے جوڑ رہا تھا جس کے مستقبل کی ذمہ داری بالآخر انہی کے کندھوں پر آنی ہے۔
یہی بچے آنے والے کل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد، افسر، کاروباری افراد، فنکار اور صحافی ہوں گے۔ آج انہیں ملنے والا ایک چھوٹا سا ایوارڈ، ایک پرچم، ایک بیج اور چند حوصلہ افزا الفاظ شاید ان کے لیے محض ایک یادگار لمحہ ہوں، مگر یہی لمحے مستقبل میں انہیں مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ دے سکتے ہیں۔
پشاور پریس کلب کی اس کاوش نے یہ ثابت کیا کہ صحافی برادری کی خدمت صرف پیشہ ورانہ مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ صحافیوں کے خاندانوں، خصوصا ان کے بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی حوصلہ افزائی بھی اسی فلاحی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
علم کی روشنی اور آزادی کے سبز ہلالی پرچم کے سائے میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس امید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ آج کے یہ پوزیشن ہولڈر بچے کل پاکستان کا روشن مستقبل بنیں گے، اپنی کامیابیوں سے اپنے والدین، صحافی برادری اور پورے ملک کا نام روشن کریں گے، اور پاکستان کو ترقی، علم اور امن کی نئی منزلوں تک لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed