گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے مطالبات کے حق میں جاری ہڑتال اور مختلف مقامات پر مال بردار گاڑیوں کو روکنے کے باعث سوات سمیت دیگر علاقوں سے ملک کے مختلف حصوں کو آلو، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کئی روز سے سپلائی کا سلسلہ معطل ہونے کے باعث تیار فصلیں منڈیوں تک نہ پہنچ سکیں اور بڑی مقدار میں آڑو، ٹماٹر اور دیگر سبزیاں گل سڑ کر ضائع ہونے لگی ہیں، جس سے کسانوں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔سوات کے کسان رہنما امان روم با چا نے میڈیا کو بتایا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں آڑو اور دیگر سبزیوں کی سپلائی تقریبا رک چکی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سوات کے کسانوں کو دو ارب روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مال بردار گاڑیوں کا کرایہ 50 سے 60ہزار روپے تک ہوتا تھا، اب بعض روٹس پر ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود گاڑیوں کو راستے میں مختلف مقامات پر روکنے سے پھل اور سبزیاں منزل تک نہیں پہنچ پا رہیں اور خراب ہو رہی ہیں۔امان روم باچانے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور کسان نمائندوں کے درمیان مذاکرات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات بھی جائز ہیں اور حکومت کو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، تاہم ہڑتال اور گاڑیوں کی روانی میں رکاوٹ کے باعث کسانوں کی تیار فصلیں تباہ ہونے سے ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سپلائی کا سلسلہ فوری بحال نہ کیا گیا تو کسانوں کو ناقابل تلافی مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سبزیوں کی مارکیٹ میں بھی شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔







