حکومتِ سندھ کی جانب سے چترال کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پشاور پہنچ گیا، جو گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے حوالے کر دیا گیا۔ امدادی سامان میں خوراک، پانی اور خیموں سمیت نان فوڈ آئٹمز شامل ہیں، امدادی سامان پاکستان ہلال احمر خیبرپختونخوا کے ذریعے چترال پہنچا کر متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا۔ امدادی سامان کی حوالگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہر مشکل گھڑی میں خیبرپختونخوا کا ساتھ دیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ نے ہمیشہ خیبرپختونخوا کو سپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ حکومت سے امداد کی درخواست کی گئی تو فوری طور پر ایمرجنسی ریلیف سامان بھجوا دیا گیا۔ پی ڈی ایم اے سندھ کے حکام نے امدادی سامان کے 10 ٹرک ہمارے حوالے کیے ہیں، جو پاکستان ہلال احمر خیبرپختونخوا کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں تعاون پر سندھ حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا چترال کے سیلاب متاثرین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں، جبکہ این ایچ اے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے این ڈی ایم اے کے 11 ویئر ہاسز میں سے صرف ایک خیبرپختونخوا، نوشہرہ میں قائم ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ سیلاب خیبرپختونخوا میں آتے ہیں، اس لیے صوبے میں کم از کم تین سے چار ریلیف ویئر ہاسز ہونے چاہئیں۔ نوشہرہ کے علاوہ ملاکنڈ اور ڈی آئی خان میں بھی این ڈی ایم اے کے ویئر ہاسز قائم کیے جائیں۔ فیصل کریم کنڈی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں مزید ریلیف ویئر ہاسز قائم کیے جائیں اور چترال کے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے این ڈی ایم اے ریلیف سرگرمیوں میں آگے آئے۔ گورنر نے کہا کہ سندھ حکومت کا امدادی سامان چترال پہنچ گیا ہے، لیکن صوبائی حکومت کا امدادی سامان ابھی تک متاثرین تک نہیں پہنچ سکا۔ امدادی سرگرمیوں میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، متاثرین کو بروقت امداد فراہم کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے وفاقی، صوبائی اور فلاحی اداروں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر چترال کے سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔ گورنر نے وزیراعلی سہیل آفریدی سے بھی درخواست کی کہ چترال کے متاثرہ علاقوں میں اپنی ٹیمیں فوری روانہ کریں، جبکہ صوبائی وزرا اور ڈپٹی اسپیکر چترال کا دورہ کرکے ریلیف سرگرمیوں کی خود نگرانی کریں۔ اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا، چیئرمین ہلال احمر خیبرپختونخوا فرزند علی وزیر اور سیکرٹری ہلال احمر خیبرپختونخوا بھی موجود تھے۔







