تحریک انصاف کے سینئر رہنما حاجی سیدید الرحمن کی پی ٹی آئی شانگلہ پر تنقید

تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق امیدوار قومی اسمبلی حاجی سیدید الرحمن نے پی ٹی آئی شانگلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں ایک بڑا شمولیتی پروگرام تھا مگر ہمارے پی ٹی آئی کے صدر غیر حاضر رہے۔ ایسے صدر کو نہیں مانتے جو پارٹی میں گروپ بندی کا باعث بنے۔ شانگلہ پی ٹی آئی میں کوئی لیڈر نہیں یہاں ہم سب ورکر ہیں اور ورکر جس کے ساتھ ہو وہی مشر اور رہنما ہیں۔حاجی سدید الرحمن نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی ایک بہت بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس جماعت کا ایک ایسا شخص صدر بنایا گیا ہے جو اس کیلئے موزوں نہیں اور وہ صدر گروپ بندی کا شکار ہو رہا ہے۔ حاجی سدید الرحمن نے واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی شانگلہ کی ضلعی صدارت کے شوقین نہیں وہ ورکر ہیں اور وہ ورکر کے ساتھ ہی ہیں۔انھوں نے کوئلہ کان حادثے میں شہید ہونے والے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر ایک بہانہ بنا رہے ہیں اور ہم خود ہر گھر گئے ہیں یہ ہم سب کا مشترکہ غم ہے مگر اگر کسی نے تعزیت کرنا تھی تو اس دن یا اس کے اگلے دن جاتے یہ ایک بہانہ ہے جو ورکر ان کیلئے تیار نہیں۔غمزدہ خاندانوں سے تعزیت بہت اہم ہے تاہم کسی کی پارٹی میں شمولیت بھی بہت اہم اس لیے ہے کہ آپ جناب پارٹی کے ضلعی صدر ہیں، آپ کی غیر موجودگی ان ورکرز اور پی ٹی آئی شانگلہ کی کسی بھی فرد کو منظور نہیں۔ہم ایسے صدر کو نہیں مانتے جس کو شانگلہ میں یونین کونسلوں کا نام بھی پتہ نہیں ہو اور وہ اپنی ناکام سیاست کو چمکانے کیلئے ایک ایسی جگہ پر گئے جو ہم سب کا غم ہے۔ اگر ہمارے صدر کسی فاتحہ کے لیے جانا تھا تو جس دن یہ افسوسناک والا المیہ ہوا تھا اس دن ان لوگوں کے ساتھ غم رازی کرتے نہ کہ کسی اور کے ساتھ جا کر۔ ہم ایسے صدر کو نہیں مانتے۔ ضلعی صدرکوچاہیے کہ تمام پارٹی کو برابر رکھے، کسی ایک ٹھیکیدار کے پیچھے نہ بھاگے۔سدید الرحمن نے کہا کہ میں نے ریجنل صدر مالاکنڈ ڈویژن فضل حکیم سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ہم عمران خان کے سپاہی ہیں، عمران خان کے ہر فیصلے پر لبیک ہیں۔ جب بھی پارٹی قیادت دھرنے، احتجاج یا مظاہرے کی کال دیں تو شانگلہ کے غیور عوام صف اول کا کردار ادا کریں گے اور اپنے قائد کے ساتھ ہوں گے۔ میں مقابلہ تحریک انصاف میں کسی کے ساتھ نہیں ہے میرا مقابلہ جس کے ساتھ ہے وہ پورا شانگلہ جانتا ہے اور آخری دم تک اس کے ساتھ مقابلہ کروں گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز شانگلہ پریس کلب الپوری میں یونین کونسل پیرآ باد سے تعلق رکھنے والے سابق ناظم افسرالدین اور دیگر افراد کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے دیگر رہنماں نے بھی خطاب کیا۔حاجی سدید الرحمن نے پی کے 30 کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں صدر رحمان ایڈوکیٹ نے الیکشن لڑا ہے اور یہاں 15 کروڑ روپے کا ٹینڈر ہوا ہے اور ہر ویلج کونسل اور ہر گاں کا حصہ ہے۔ اب تک اس میں فنڈ اور ورک آرڈر کا مسئلہ جو حل ہو گیا ہے اور ہر علاقے کو اس میں برابری کی سطح پر حصہ ملا ہے اور اس پر کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔اس ٹینڈر میں تمام علاقوں کے لوگوں کی سکیمیں موجود ہیں اور یہ وعدہ ہے کہ یہ ان سکیموں پر لگیں گے نہ کسی ٹھیکیدار کی جیب میں جائیں گے اور وہ خود ان کے ذمہ دار ہوں گے۔پارٹی رہنماں نے 27 مارچ کو اسلام آباد جانے کی کال دی ہے ہم ہر دھرنے، احتجاج اور مظاہرے کیلئے تیار ہیں جو عمران خان کی رہائی کیلئے ہو۔ شانگلہ کے غیور لوگ، پارٹی ورکرز، رہنما اور سپورٹرز عمران خان کی رہائی کیلئے پارٹی کی ہر کال پرحاضر ہوں گے۔حاجی سدید الرحمن نے شامل ہونے والے سابق ناظم افسر الدین اور ان کے ساتھیوں کو پی ٹی آئی میں شمولیت پر زبردست مبارکباد پیش کی اور ان کے اس اقدام کو علاقے کی ترقی اور جمہوری اقدار سے ان لوگوں کی سوچ کا مظہر قرار دیا۔ انھوں نے شامل ہونے والے افراد اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی میں شمولیت پر خیر مقدم کیا۔منعقدہ تقریب سے پارٹی کے دیگر رہنماں نے بھی خطاب کیا اور شانگلہ میں پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور کابینہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ایک مخصوص ٹھیکیدار کے پیروکار بنے ہوئے ہیں جس کیلئے کوئی بھی پارٹی ورکر تیار نہیں۔ یہ پارٹی نہیں چلا رہے بلکہ ایک اپنی راہ چلا رہے ہیں جس کے لیے کوئی بھی بشر تیار نہیں۔انھوں نے پارٹی کے اندر گروپ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا صدر گروپ بندیوں کا سبب بن رہا ہے اس لیے صوبائی اور مرکزی قیادت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed