پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ نہ کرنیکا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں کی پاکستان میں قیام کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا، عدالت نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت دو ماہ میں درخواست گزاروں کے کیس کا تعین کرے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار سید احسان اللہ صالحی اور سید منیر احمد افغان صحافی ہیں جو قانونی ویزے پر پاکستان آئے اور اس وقت پاکستان میں ہی مقیم ہیں، درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے سال 2026 میں فرانس میں آباد کاری کے لیے درخواستیں دی تھیں جو فی الحال زیر غور ہیں، فرانس کا سفارت خانہ انکے کیسز کی توثیق کرچکا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کو پاکستان میں قانونی طور پر قیام کے باوجود گرفتاری اور ملک بدری کا خدشہ ہے، اس ڈر کی وجہ سے وہ آزادانہ نقل و حرکت نہیں کرسکتے، اسپتالوں اور طبی سہولیات تک بھی رسائی نہیں ہے۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کی درخواستیں تیسرے ملک (فرانس) میں آباد کاری کے لیے زیر التوا ہیں، وفاقی حکومت 60 دن میں درخواست گزاروں کے کیسز کو دیکھیں، وفاقی حکومت اور متعلقہ ایجنسیز 60 دن تک درخواست گزاروں کو گرفتار نہ کریں، حکومت درخواست گزاروں کو افغانستان ڈی پورٹ نہ کرے، وفاقی حکومت 60 دن کی مدت کے اندر اپنا فیصلہ دینے سے قاصر رہتی ہے تو سیکرٹری وزارت داخلہ درخواست گزاروں کو عارضی اجازت نامہ جاری کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed