پاکستان تحریک انصاف حیات آباد کے جنرل سیکرٹری عمران خان سالارزئی نے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی آئوٹ سورسنگ کے مجوزہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیلوں کے میدانوں اور عوامی اسپورٹس سہولیات کو کاروباری مفادات کے لیے ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس شہریوں، نوجوانوں، طلبہ، کھلاڑیوں اور خصوصی افراد کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کاروباری سرگرمیوں کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔ کھیلوں کی سہولیات کو کمرشلائز کرنے سے عام شہری بالخصوص کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوان متاثر ہوں گے۔عمران خان سالارزئی نے کہا کہ اس سے قبل بھی حیات آباد میں مختلف فٹبال گرائونڈز شہریوں کے لیے بنائے گئے، لیکن سہولیات تک رسائی روز بروز مشکل ہوتی گئی۔ کھیلوں کے میدان صحت مند معاشرے اور نوجوان نسل کی مثبت سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے انہیں صرف کاروباری مفادات کے لیے استعمال کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان عوامی فلاح، صحت اور مثبت سرگرمیوں کے لیے ہونے چاہئیں، نہ کہ صرف کاروباری مفادات کے لیے۔ صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی آٹ سورسنگ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور اسے عوامی مفاد میں برقرار رکھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسپورٹس کمپلیکس کو آٹ سورس کرنے کے بجائے بہتر انتظام، شفاف نگرانی اور عوام کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو حیات آباد کے نوجوانوں کو کھیلوں کے بہترین مواقع میسر آ سکتے ہیں۔







