آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے دوران باغ میں بنی منہاساں پولنگ اسٹیشن پر پولنگ شروع ہونے سے قبل ہی مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر بیلٹ پیپرز چھین لئے گئے جبکہ پیپلز پارٹی کا ن لیگ پر ایک بارپ ھر دھاندلی کا الزام عائد کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق پریذائڈنگ آفیسر نے بتایا کہ مسلح افراد نے پولنگ کے آغاز سے پہلے پولنگ اسٹیشن پر کارروائی کرتے ہوئے گن پوائنٹ پر بیلٹ پیپرز اپنے قبضے میں لے لئے ۔ذرائع کے مطابق بنی منہاساں پولنگ اسٹیشن مسلم لیگ ن کے امیدوار مشتاق احمد منہاس کا آبائی پولنگ اسٹیشن ہے۔پولنگ اسٹیشن کے آغاز سے قبل ہی پولنگ اسٹیشن نمبر 4 اور 7 پر چار چار سو سے زائد بوگس ووٹس ڈال دئیے گئے۔واقعے کے باعث پولنگ کے عمل اور انتخابی سامان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھ گئے ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ باغ کے حلقہ ایل اے 15 اور 16 کے کچھ پولنگ اسٹیشنز پرپولنگ شروع نہیں ہوئی، اور اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے امیدوار ضیا القمر کی جانب سے حلقہ ایل اے 15 کے ہٹالہ پدر میں پولنگ اسٹیشن نمبر 143 اور 144 پر پولنگ عملہ نہ پہنچنے اور مقررہ وقت کے ڈیڑھ گھنٹے بعد بھی پولنگ شروع نہ ہونے کے خلاف ہنگامی شکایت جمع کرائی ہے۔پیپلز پارٹی نے مزید دعوی کیا ہے کہ ایل اے 16 کے پولنگ اسٹیشنز نمبر 141 اور 61 پر بھی ساڑھے 9 بجے تک پولنگ شروع نہ ہو سکی۔پیپلزپارٹی نے مسلم ن لیگ پر الزام عائد کیا ہے کہ حلقہ ایل اے 14 کے علاقے بنی مالدھارا کے 7 پولنگ اسٹیشنز نمبر 8 سے 14 تک پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو نکال کر بیلٹ پیپرز پر مہریں لگائی گئیں، اس ضمن میں الیکشن کمشن کو ہنگامی شکایت بھی جمع کرائی گئی ہے۔اس سے قبل حلقہ ایل اے 16 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 119 اور 120 پر اسی طرح کے الزامات لگا کر ن لیگ کے خلاف الیکشن کمیشن کو شکایت جمع کرائی گئی تھی۔







