سابق افغان جج’ فوجی اہلکار و دیگر کی درخواستیں خارج

پشاور ہائیکورٹ نے افغان سپریم کورٹ کے سابق جج عبداللہ محمدی ،این ڈی ایس کے سابق اہلکار عبدالقیوم عمرزئی ،خاتون سماجی کارکن فہیمہ صافی نظری اوران کے شوہر کی پاکستان میں عارضی قیام اور ان کی ملک بدری روکنے کیلئے دائر درخواستیں خارج کردیں ۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزارافغانستان میں انکی زندگی یا آزادی کو درپیش خطرے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کرسکے نہ ہی ایسا کوئی ریکارڈ موجود ہے جو یہ ظاہر کرے کہ انکی کسی دوسرے ملک میں آباد کاری کا عمل کسی مرحلے پر ہو۔ درخواست گزاروں نے یو این ایچ سی آر یا کسی غیر ملکی سفارت خانے یا مجاز اتھارٹی کا کوئی سفارشی دستاویزات بھی فراہم نہیں کی۔ رٹ پٹیشنز کی سماعت جسٹس وقاراحمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بنچ نے کی۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزارمبینہ طور پر درست ویزوں پر پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ عبداللہ محمدی سپریم کورٹ آف افغانستان کے سابق جج اور افغان ججز ایسوسی ایشن کے رکن رہے جبکہ عبدالقیوم عمرزئی افغان نیشنل ڈیٹابیس سکیورٹی میں رہ چکے ہیں جنہیں طالبان کی طرف سے دھمکیوں پر وہ پاکستان آئے ۔ عبداللہ محمدی کے مطابق پناہ گزینوں کی کارروائی کیلئے سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پرزنرز ایڈسے رابطہ کیا گیا ہے اور یو این ایچ سی آر کے سامنے ان کا پری اسکریننگ/انٹرویو تاحال زیر التوا ہے ۔اسی طرح خاتون کارکن فہیمہ صافی نظری کی رٹ پر عدالت نے قراردیاکہ غیر ملکی ریاست کے سامنے زیر التوا درخواست یاافغانستان میں سابقہ ملازمتیں اور سپیشل ایمیگرینٹ ویزہ کیلئے سفارشات پاکستان میں قیام کا حق نہیں دیتی۔عدالت نے دلائل کے بعد ان درخواستوں کو مسترد کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed