امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے 60 روزہ عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق معاہدے میں عمان، ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے لیے 60 روزہ عارضی انتظام شامل ہے، جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔معاہدے کے تحت خلیج کی طرف جانے والے تمام بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی پانیوں سے گزرنے والا شمالی راستہ اختیار کریں گے، آبنائے ہرمز سے نکل کر بحیرہ عرب کی طرف جانے والے جہاز ایران کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت عمانی پانیوں سے جنوبی راستہ اختیار کریں گے۔ معاہدے میں 60 دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کسی قسم کی فیس عائد نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔معاہدے میں فریقین 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کے مرکزی راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے کام کریں گے۔مستقل معاہدے پر بات چیت کے دوران آبنائے کے مرکزی راستے کو آنے اور جانے والے بحری جہازوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اسٹیو وٹکوف اور ایران و عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان فون پر رابطے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی اصولی طور پر اس معاہدے پر رضامند ہو گئے ہیں، جس کے بعد سپریم لیڈر اور قومی سلامتی کونسل کی منظوری درکار ہے۔رپورٹ کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں قطر، پاکستان اور سعودی حکام بھی ثالثی کوششوں میں شامل رہے۔اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، جلد معاہدہ طے پاجائے گا۔







