
ڈاکٹر قدرت
لیکچرر، شعبہ سوشیالوجی
گورنمنٹ ڈگری کالج KDA ٹائون شپ، کوہاٹ
دنیا اس وقت انسانی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ تہذیب، معیشت، سیاست، تعلیم اور انسانی زندگی کے ہر شعبے کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہے۔ صنعتی انقلاب نے انسانی عضلات کی جگہ مشینوں کو دی تھی، جبکہ مصنوعی ذہانت انسانی ذہنی صلاحیتوں کے بعض پہلوئوں کو بھی چیلنج کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ کیا سماجی علوم اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر سکیں گے یا وہ جامد نصاب اور روایتی تحقیق کے بوجھ تلے اپنی افادیت کھو بیٹھیں گے؟
بطور لیکچرر شعب سوشیالوجی، میرا روزانہ نوجوان طلبہ سے واسطہ رہتا ہے۔ کلاس روم میں ایک سوال بارہا میرے طلبہ کی جانب سے اٹھایا جاتا ہے: "کیا مصنوعی ذہانت کے اس تیز رفتار دور میں سماجی علوم اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں گے؟ کیا سوشیالوجی، سیاسیات، معاشیات اور دیگر سماجی علوم مستقبل میں بھی اتنے ہی مثر رہیں گے یا مصنوعی ذہانت کے غلبے کے باعث ان کی اہمیت کم ہوتی جائے گی؟” یہ سوال محض طلبہ کی تشویش نہیں بلکہ دنیا بھر کے ماہرینِ تعلیم، محققین اور پالیسی سازوں کے لیے بھی غور و فکر کا موضوع بن چکا ہے۔ میری رائے میں اس کا جواب واضح ہے۔ مصنوعی ذہانت سماجی علوم کا متبادل نہیں بلکہ ایک طاقتور تحقیقی وسیلہ ہے۔ اگر سماجی علوم خود کو مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا ، ڈیٹا اینالیٹکس اور کمپیوٹیشنل ریسرچ کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو نہ صرف ان کی افادیت برقرار رہے گی بلکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ مثر انداز میں انسانی معاشروں کے پیچیدہ مسائل کا تجزیہ اور ان کے حل کی راہنمائی کر سکیں گے۔
گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت نے معلومات کے حصول، تحقیق، تدریس، پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔ لاکھوں صفحات پر مشتمل معلومات چند لمحوں میں تجزیہ کی جا سکتی ہیں، معاشی رجحانات کی پیش گوئی ممکن ہو گئی ہے، سیاسی بیانیوں کا تجزیہ حقیقی وقت میں ہو رہا ہے اور سماجی رویوں کو اربوں ڈیجیٹل نشانات (Digital Footprints) کے ذریعے سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ڈیٹا انسان نہیں ہوتا، اور الگورتھم معاشرہ نہیں ہوتے۔ مصنوعی ذہانت معلومات کو منظم کر سکتی ہے، مگر وہ انسانی احساسات، ثقافتی تنوع، سماجی اقدار، اخلاقی کشمکش اور تاریخی پس منظر کو اسی گہرائی سے نہیں سمجھ سکتی جس طرح سماجی علوم سمجھتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوشیالوجی، سیاسیات، معاشیات، نفسیات، ابلاغِ عامہ، بین الاقوامی تعلقات اور دیگر سماجی علوم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت یہ بتا سکتی ہے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں، لیکن یہ سمجھانا کہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں، سماجی علوم کا دائر کار ہے۔
سوشیالوجی آج صرف کتابوں میں درج نظریات تک محدود نہیں رہی۔ فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انسانی رویوں کا ایک نیا سماجی منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔ یہاں سے جنم لینے والا ڈیجیٹل سوشیالوجی (Digital Sociology) کا میدان ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور بڑے ڈیٹا کے امتزاج سے سماجی تبدیلی، شناخت، ثقافت، سماجی اخراج، ڈیجیٹل عدم مساوات اور اجتماعی رویوں کو کس طرح بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ مستقبل کا ماہرِ عمرانیات وہ ہوگا جو ایمائل درکھائم، میکس ویبر اور پیئر بوردیو کے نظریات کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹیشنل سوشل سائنس سے بھی واقف ہوگا۔
سیاسیات میں مصنوعی ذہانت انتخابی مہمات، عوامی رائے، خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور گورننس کے تجزیے کو نئی جہت دے رہی ہے، مگر یہی ٹیکنالوجی جھوٹی خبروں، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے سیاسی سائنس دانوں، سماجی ماہرین اور کمپیوٹر سائنسدانوں کا اشتراک وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔
معاشیات میں بھی مصنوعی ذہانت نے منڈیوں کے رجحانات، مالیاتی خطرات، افراطِ زر، روزگار اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے طریقوں کو بدل دیا ہے۔ تاہم اقتصادی ترقی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انسانی فلاح، سماجی مساوات اور انصاف کا بھی نام ہے، اور یہی اقدار سماجی علوم معاشی منصوبہ بندی میں شامل کرتے ہیں۔
آج دنیا کی ممتاز جامعات Computational Social Science، Digital Sociology، AI Ethics، Policy Analytics، Social Network Analysis اور Digital Humanities جیسے بین الشعبہ جاتی شعبے قائم کر رہی ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مستقبل نہ صرف مصنوعی ذہانت کا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت اور سماجی علوم کے اشتراک کا بھی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ لمح فکریہ ہے کہ ہمارے بیشتر تعلیمی اداروں میں سماجی علوم کا نصاب ابھی تک روایتی سانچے میں مقید ہے۔ اگر ہم اپنے طلبہ کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، ڈیجیٹل تحقیق، کمپیوٹیشنل طریقہ تحقیق اور اخلاقی مصنوعی ذہانت سے روشناس نہیں کرائیں گے تو ہمارے فارغ التحصیل طلبہ عالمی علمی منڈی میں پیچھے رہ جائیں گے۔ اسی طرح اگر کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو سماجی نظریات، تحقیقاتی اخلاقیات، ثقافتی تنوع اور انسانی رویوں کی تعلیم نہیں دی جائے گی تو وہ ایسی ٹیکنالوجی تخلیق کر سکتے ہیں جو تکنیکی طور پر تو مضبوط ہو مگر سماجی طور پر غیر منصفانہ ثابت ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی جامعات میں Artificial Intelligence and Social Sciences کے عنوان سے بین الشعبہ جاتی پروگرام شروع کیے جائیں، تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں، اور طلبہ کو ایسے منصوبوں پر کام کرنے کا موقع دیا جائے جن میں مصنوعی ذہانت کو غربت، بے روزگاری، صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اخراج، شہری منصوبہ بندی اور پالیسی سازی جیسے قومی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
مصنوعی ذہانت سماجی علوم کی دشمن نہیں بلکہ ایک طاقتور علمی وسیلہ ہے۔ اگر سماجی علوم اس ٹیکنالوجی کو اپنا لیں تو ان کی تحقیق زیادہ جامع، زیادہ مثر اور زیادہ قابلِ عمل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ خود کو بدلتے ہوئے علمی ماحول سے الگ رکھیں گے تو ان کی افادیت محدود ہوتی جائے گی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی رفتار متعین کرے گی، لیکن اس رفتار کا رخ سماجی علوم ہی طے کریں گے۔ ٹیکنالوجی ہمیں طاقت دے سکتی ہے، مگر اس طاقت کو انصاف، مساوات، انسانی وقار اور اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرنا سماجی علوم ہی سکھاتے ہیں۔ لہذا اگر ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو صرف تکنیکی لحاظ سے جدید نہ ہو بلکہ سماجی طور پر بھی منصف، پائیدار اور انسان دوست ہو، تو ہمیں مصنوعی ذہانت اور سماجی علوم کے درمیان مضبوط پل تعمیر کرنا ہوگا۔ یہی مستقبل کی تعلیم، تحقیق اور قومی ترقی کی بنیاد ہے۔
مئولف سوشیالوجی آف ہیلتھ اینڈ ڈس ایبلٹی اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی رکھتے ہیں اور گورنمنٹ ڈگری کالج KDA ٹائون شپ، کوہاٹ میں لیکچرر ہیں۔ ان سے*(mailto:qudratsoc79@gmail.com)پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔







