این سی سی آئی اے کے 2 انسپکٹرز کیخلاف درخواست پر جواب طلب

پشاور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر غیر قانونی حراست، تشدد اور بھتہ خوری کے الزام میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کے دو انسپکٹرز کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور این سی سی آئی اے سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر اس کے خلاف کوئی کارروائی درکار ہو تو وہ صرف قانون کے مطابق کی جائے۔جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد سہیل خان کی جانب سے شاہد محمود ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں وزارت داخلہ، این سی سی آئی اے، انسپکٹر احمد جان اور انسپکٹر نعمان کو فریق بنایا گیا ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مکل پیشے کے لحاظ سے چارٹرڈ اکانٹنٹ اور تعمیراتی کاروبار سے وابستہ ہے، جسے 2 جولائی کو پشاور کے ایک نجی ریسٹورنٹ سے بغیر وارنٹ دو انسپکٹرز نے حراست میں لے کر این سی سی آئی اے کے دفتر منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔وکیل کے مطابق متعلقہ افسران نے درخواست گزار سے ڈھائی کروڑ روپے بھتہ طلب کیا، اس سے 52 لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون بھی لے لیا اور مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے ایک اقرار نامے پر انگوٹھے کے نشانات حاصل کیے۔ انہوں نیعدالت کوبتایا کہ رہائی کے بعد اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال سے کرائے گئے طبی معائنے میں تشدد کے نشانات کی تصدیق ہوئی۔سماعت کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر اس کے خلاف کوئی کارروائی بنتی ہو تو وہ قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور این سی سی آئی اے سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔رٹ پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ دونوں انسپکٹرز کے خلاف انکوائری کر کے انہیں معطل کیا جائے، ریسٹورنٹ اور این سی سی آئی اے دفتر کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ کیا جائے، مبینہ طور پر زبردستی لیا گیا اقرار نامہ غیر قانونی قرار دیا جائے اور 52 لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون واپس دلانے کے احکامات جاری کیے جائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed