واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بتایا ہے کہ واپڈا کے اہم منصوبوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سکیورٹی فورس قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس کا قیام وفاقی حکومت کی منظوری سے عمل میں لایا جائے گا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں واپڈا سیکیورٹی فورس بل پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد سعید نے کہا کہ صرف سکیورٹی گارڈز کے ذریعے بڑے آبی منصوبوں اور واپڈا تنصیبات کی حفاظت ممکن نہیں، اس لیے جدید تقاضوں کے مطابق الگ فورس تشکیل دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی فورس کے اہلکار کنٹریکٹ پر بھرتی کیے جائیں گے، انہیں پنشن نہیں دی جائے گی، جبکہ فورس کو واپڈا کے منصوبوں اور دفاتر کے اندر سکیورٹی، نگرانی اور محدود اختیارات کے تحت گرفتاری کا اختیار بھی حاصل ہوگا، گرفتار افراد کو بعد ازاں متعلقہ ضلعی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔واپڈا حکام کے مطابق فورس کا اپنا یونیفارم، تربیتی نظام اور کمانڈ اسٹرکچرہوگا، جبکہ اس کا سربراہ (ڈی جی)گریڈ 20کا ریٹائرڈ فوجی یا پولیس افسرہوگا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم سمیت متعدد منصوبوں پر اس وقت ہزاروں اہلکار سکیورٹی پر مامور ہیں اور موجودہ چوکیدار نظام اب موثر نہیں رہا۔واپڈا فورس کے قواعد و ضوابط وفاقی حکومت مرتب کرے گی، جبکہ اہلکار کسی دوسری ملازمت یا یونین سازی کے مجاز نہیں ہوں گے۔







