افغان صحافیوں ‘ جج اورسابق جنرل کو 2 ماہ تک ملک بدرنہ کرنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان میں جان کو خطرات لاحق ہونے کے باعث پاکستان میں عارضی قیام کے خواہشمند سابق افغان جنرل اور افغان صحافیوں کی دو ماہ کیلئے ملک بدری روک دی اور انکی درخواستیں وزرات داخلہ کو بھیج دی جبکہ افغان سپریم کورٹ کے سابق جج عبداللہ محمدی، افغان نیشنل ڈیفنس سے وابستہ عبدالقیوم عمرزئی، افغان ملی اردو کے سابق جرنیل بریالے شریفی اور عبدالمجیب غیرت، جبکہ فہیمہ صافی کی رٹ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بینچ نے رٹ پٹیشنز کی سماعت کی۔عدالت نے جن درخواست گزاروں کی ملک بدری روکی ہے ان میں سابق افغان جنرل محمد نوید عمری ،افغان صحافی سید انعام اللہ صالحی اور سید منیر احمد حدف شامل ہیں۔ عدالت نے تینوں درخواست گزاروں کے کیسز وزارت داخلہ کو بھجواتے ہوئے دو ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا اور اس دوران پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انہیں گرفتار یا ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے مقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کو افغانستان میں طالبان کی جانب سے جان کے شدید خطرات لاحق ہیں، ان کے گھروں کو بھی مسمار کیا جا چکا ہے جبکہ انہوں نے مختلف ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں، اس لیے حتمی فیصلے تک انہیں پاکستان میں عارضی پناہ فراہم کی جائے۔دوران سماعت جسٹس وقار احمد نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزاروں کو کسی ملک کی جانب سے سفارشی خط (Letter of Recommendation) موصول ہوا ہے؟ اس پر وکلا نے بتایا کہ صرف دو صحافیوں اور محمد نوید عمری کو سفارشی خطوط موصول ہوئے ہیں جبکہ دیگر درخواست گزاروں کو تاحال ایسے خطوط نہیں ملے۔ دیگر درخواست گزاروں میں افغان سپریم کورٹ کے سابق جج عبداللہ محمدی، افغان نیشنل ڈیفنس سے وابستہ عبدالقیوم عمرزئی، افغان ملی اردو کے سابق جرنیل بریالے شریفی اور عبدالمجیب غیرت، جبکہ فہیمہ صافی بھی شامل ہیں، جو ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔ عدالت نے ان پانچ درخواست گزاروں کی درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ تین رٹ پٹیشن وزارت داخلہ کو ارسال کردی اور دو ماہ تک ان تینوں درخواست گزاروں کی ملک بدری روک دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed