کوہاٹ ‘غیر قانونی پٹرول پمپس کو این او سیز کے اجراء میں جواب طلب

پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ میں مبینہ طور پر غیر قانونی پیٹرول پمپس کے لیے این او سیز جاری کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اوگرا، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)اور ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔درخواست کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل روح اللہ جان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ اوگرا کی پالیسی کے برعکس متعلقہ قواعد کی تصدیق کے بغیر نئے پیٹرول پمپس کے لیے این او سیز جاری کر رہے ہیں، جس کے باعث اسمگل شدہ اور غیر معیاری پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔انہوں نے مقف اختیار کیا کہ پاکستان آئل رولز 2016 کے رول 37 کے تحت ہر آئل کمپنی کے لیے کم از کم مطلوبہ اسٹوریج کی گنجائش برقرار رکھنا لازمی ہے، تاہم اوگرا اور متعلقہ ادارے اس شرط کی تکمیل کے بغیر بھی این او سیز جاری کر رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق کیبنٹ ڈویژن کے قائم کردہ انکوائری کمیشن نے بھی اس معاملے کی نشاندہی کی تھی، لیکن اس کے باوجود بعض کمپنیاں معمولی جرمانے ادا کرکے غیر قانونی پیٹرول پمپس کو ریگولرائز کر رہی ہیں۔وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کو کسی بھی غیر قانونی پیٹرول کنزیومر اسٹوریج کے لیے این او سی جاری کرنے سے روکا جائے اور اوگرا آرڈیننس 2002 اور پیٹرولیم رولز 2016 کے تحت متعلقہ اداروں کو اپنے ریگولیٹری فرائض پر سختی سے عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے اوگرا، پاکستان اسٹیٹ آئل اور ڈپٹی کمشنر کوہاٹ سمیت متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جبکہ درخواست کی مزید سماعت بعد میں مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed