کالج آف ہوم اکنامکس یونیورسٹی آف پشاور میں ایک ماہ پر مشتمل ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ پروگرام کا انعقاد سرحد رورل سپورٹ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے اشتراک سے کالج آف ہوم اکنامکس کے تعاون سے کیا گیا۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سجاد احمد تھے جبکہ قائم مقام پرنسپل کالج آف ہوم اکنامکس پروفیسر ڈاکٹر سیدہ کنیز فاطمہ حیدر، یو این ایف پی اے کے یوتھ کمپوننٹ لیڈ اطہر اقبال، ایس آر ایس پی کی نمائندہ مس حمیرا، محمد ارشد، اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سجاد احمد نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل مہارتیں نوجوانوں کی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI)، فری لانسنگ اور پروفیشنل نیٹ ورکنگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرکے نوجوان ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ پر مشتمل اس تربیتی پروگرام کے دوران شرکا کو اے آئی پرامپٹ انجینئرنگ، لنکڈ اِن پروفائل آپٹیمائزیشن اور فری لانسنگ کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں، مثر پروفیشنل پروفائل تشکیل دیں اور ڈیجیٹل معیشت میں دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگرام مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نوجوانوں کو خودمختار بنانے، ان کی ملازمت کے امکانات بڑھانے اور انہیں عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں مثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔تقریب کے اختتام پر طلبہ و طالبات نے پروگرام کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی تربیتی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔







