وکلا ایکشن کمیٹی پاکستان کے چیئرمین علی احمد کردنے اعلان کیا ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز پشاور سے کیا جائے گا۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ ان آئینی ترامیم کے ذریعے عوام، عدلیہ اور ججز کے حقوق سلب کیے گئے ہیں، جن کے خلاف وکلا ایکشن کمیٹی احتجاجی مہم شروع کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک کا آغاز تاریخی قصہ خوانی بازارسے کیا جائے گا، جہاں خیبرپختونخوا کے وکلا عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے پمفلٹ تقسیم کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پشاور کی سرزمین ہمیشہ جمہوری اور آئینی جدوجہد کا مرکز رہی ہے اور یہاں سے اٹھنے والی تحریکوں نے تاریخ کا رخ موڑا ہے۔علی احمد کرد نے الزام عائد کیا کہ حکمران عوامی مسائل کے حل کے بجائے مسلسل آئینی ترامیم کر رہے ہیں، جبکہ ملک کے کروڑوں عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کیا گیا ہے اور صحافت کی آزادی پر بھی مختلف قوانین کے ذریعے قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں پر عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے،تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں لیکن ان کے مقدمات میں نہ وکیل نظر آتے ہیں اور نہ ہی جج، یہ کیسا ٹرائل ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں احتجاج اور جلسے جلوسوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور معمولی نعرے بازی پر بھی مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر وکلا ایکشن کمیٹی پاکستان کے ترجمان نعمان الدین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز جلد قصہ خوانی بازار سے ہوگا، جہاں علی احمد کرد خود عوام میں پمفلٹ تقسیم کریں گے۔اس موقع پر نائب چیئرمین وکلا ایکشن کمیٹی علی زمان خان اور پشاور بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری زید اللہ خان بھی موجود تھے۔







