شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے پیسکو، ٹیسکو سمیت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز)کے ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے کا حکومتی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف دائر تمام رٹ درخواستیں خارج کر دیں۔جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 45 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تحریر کیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے انکے وکلا جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل آٹارنی جنرل ثنا اللہ اور ڈسکوز کی جانب سے بیرسٹر اسدالملک عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ واپڈا سروس رولز ابتدا میں قانونی حیثیت رکھتے تھے تاہم ڈسکوز میں ان کے اطلاق کے بعد وہ انتظامی نوعیت اختیار کر گئے اس لیے حکومت انہیں تبدیل یا ختم کرنے کی مجاز ہے۔ عدالت نے ملازمین کے "جائز توقع” (Legitimate Expectation) کے مقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر اصلاحات حکومتی پالیسی کا حصہ ہیں اور ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔عدالت نے یہ اعتراض بھی مسترد کر دیا کہ نگران حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھااور قرار دیا کہ یہ پالیسی سابق منتخب حکومت نے شروع کی تھی جبکہ بعد میں آنے والی منتخب حکومت نے بھی اسے برقرار رکھا۔ فیصلے کے بعد دسمبر 2023 سے جاری حکم امتناعی ختم ہو گئی جس کے نتیجے میں ڈسکوز ملازمین کی مفت بجلی یونٹس کی سہولت کا خاتمہ نافذ العمل ہو گیا۔ عدالت کے مطابق اس اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت ہوگی۔







