پشاور ہائیکورٹ نے نادراحکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذور خاتون کے قومی شناختی کارڈ کےلئے جمع کرائی گئی درخواست کو فوری طور پر پروسیس کر کے قانون کے مطابق مسئلے کو حل کرے۔یہ حکم جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے صائمہ بی بی کی رٹ پر سماعت کے دوران جاری کیے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلا قاضی محمد وقاص عارف، اصغر لیاقت علی اور قاضی احمد اقبال ایڈوکیٹس عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ مذکورہ خاتون پشاور ڈبگری میں پیدا ہوئی جس کی عمر 54سال ہے جو کہ ذہنی معذوری کا شکار ہے ۔ان کے والدین جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ان کے بھائیوں کے پاس بھی قومی شناختی کارڈ ہے تاہم اس کے پاس شناختی کار نہ ہونے کے باعث متاثرہ خاتون علاج معالجے سمیت دیگر بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا کی جانب سے گارڈین (سرپرستی) آرڈر کا بلاجواز تقاضا کیا جا رہا ہے اور درخواست کا ٹوکن جاری کرنے سے بھی انکار کردیا گیا جو کہ ناانصافی ہے۔فاضل بنچ نے پٹیشن نمٹاتے ہوئے درخواست گزارہ کو ایپلائی کرنے جبکہ نادراحکام کومتاثرہ خاتون کو ٹوکن جاری کرنے اور تمام قانونی و تصدیقی مراحل مکمل کرنے کے بعد قانون کے مطابق اس کے شناختی کارڈ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ہے







