امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران پیٹرول پر لیوی ٹیکس کی مد میں عوام کی جیبوں سے 1900 ارب روپے وصول کیے، جن میں سے 1200 ارب روپے ان غریب عوام سے وصول کیے گئے جو باقاعدہ ٹیکس دہندگان میں شامل بھی نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع نے پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی نائب امیر امیر میاں صہیب الدین کاکاخیل، سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی اور نورالواحد جدون بھی ان کے ہمراہ تھے۔عبدالواسع نے کہا کہ ایران-اسرائیل جنگ کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہفتہ وار اور اب روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور اس دوران حکومت نے لیوی ٹیکس کی آڑ میں عوام پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں تقریبا 3 کروڑ موٹر سائیکل سوار روزانہ کم از کم ایک لیٹر پیٹرول استعمال کرتے ہیں، جن سے فی لیٹر 124 روپے لیوی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کے فیصلے نے عوام کو پمپ مالکان اور پیٹرول مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے پر حکومت کمی کا اعلان نہیں کرتی، جبکہ معمولی اضافے پر فوری طور پر قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر قرضے لے کر انہیں کرپشن کی نذر کر دیتی ہے، جبکہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے پیٹرول کی قیمتوں اور لیوی ٹیکس کے ذریعے عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکمران اور بیوروکریسی اپنی مراعات اور شاہانہ طرز زندگی میں کمی کے لیے تیار نہیں۔عبدالواسع نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ظالمانہ لیوی ٹیکس کے خلاف 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اس سلسلے میں 6 اگست کو پشاور میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام جی ٹی روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کے دوران پشاور-اسلام آباد موٹروے کے تمام انٹرچینجز کو بند کیا جائے گا، جبکہ کوہاٹ کے مقام پر انڈس ہائی وے اور جمرود میں بابِ خیبر کے مقام پر پاک-افغان شاہراہ بھی بند کی جائے گی۔ اس دوران صرف ایمبولینسز کو آمدورفت کی اجازت ہوگی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور لیوی ٹیکس کے خاتمے کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کے اگلے مرحلے میں اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔







